کسان تنظیموں کے علاوہ ٹریڈ یونینوں اور کھاپ پنچایتوں نے چرخی دادری کے دہلی روڈ پر واقع مور والا ٹول بند کر ایا، دادری-دہلی سڑک بھی بلاک کر دی گئی، پنجاب میں روکی گئیں ٹرینیں ،پر امن رہا بند
کسانوں کی تحریک میں اب تک کیا ہوا
پولیس کی کاروائی میں اب تک 400؍کسان زخمی
70؍کسانوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہے
مرکزی حکومت کسانوں سے بات کرنے کو تیار
کسانوں سے پر امن مظاہرہ کرنے کی اپیل جاری
نئی دہلی ـ:مودی حکومت کی وعدہ خلافی کے خلاف کسانوں کی تحریک اب روز بروز زور پکڑ رہی ہے جس سے انتظامیہ کے ہاتھ پیر پھولے ہوئے ہیں۔ تحریک کے ساتھ آج بھارت بند کا اثر بطور خاص پنجاب ، ہریانہ اور دہلی کی سرحدوں پر نظر آیا ۔ کسانوں نے اعلان کیا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات نہیں مان لیے جاتے وہ تحریک روکنے والے نہیں ہیں،تیسرے دور کی بات چیت بے نتیجہ رہی ۔ بند میں کسان تنظیموں کے علاوہ ٹریڈ یونینوں اور کھاپ پنچایتوں نے چرخی دادری کے دہلی روڈ پر واقع مور والا ٹول بند کر ایا، دادری-دہلی سڑک بھی بلاک کر دی گئی، پنجاب میں روکی گئیں ٹرینیں ۔ یہی نہیں اب بھارتیہ کسان یونین کے صدر راکیشن ٹکیت نے مہاپنچایت بلائی ہے جس میں دہلی چلو کا نعرہ دیا جا سکتا ہے ۔ علاوہ ازیں بند کے سبب ہریانہ ریاست میں بسوں کی آمدورفت ٹھپ ہوگئی ۔ ساتھ ہی کسانوں کے احتجاج نے ٹول پلازوں کو فری کر دیا۔ یہ راحت کی بات ہے کہ بھارت بند کے دوران کہیں سے بھی تشدد کی کوئی خبر نہیں ہے۔ دوسری طرف ہریانہ کے کچھ اضلاع میں بھارت بند کا اثر کم رہا ہے۔جانکاری کے مطابق کسانوں نے کرنال میں ٹو پلازہ کو آزاد کر دیا ہے۔ 12 بجے سے 4 بجے تک یہاں کسی بھی گاڑی سے ٹول نہیں لیا جائے گا۔ بھارتیہ کسان یونین چڈونی گروپ کے عہدیدار ٹول پلازہ کے قریب بیٹھ گئے اور بڑی تعداد میں پولیس اہلکار بھی یہاں تعینات ہیں۔ اسی طرح پانی پت میں ٹول پلازہ کو بھی فری کر دیا گیا ۔ریاست کے امبالہ میں سڑک بلاک کر دی گئی ۔ پرائیویٹ بس یونین بھی چکہ جام میں شامل ہو گئی ۔ روڈ ویز افسر کا کہنا ہے کہ روڈ ویز کی کچھ یونینوں نے بھارت بند میں حصہ لیا ہے۔ امبالہ سے بسیں باقاعدگی سے چل رہی ہیں۔ امبالہ ڈپو میں 200 میں سے 180 بسیں چل رہی ہیں۔ کسانوں نے ضلع حصار میں نیشنل ہائی وے-9 پر واقع رامائن ٹول پلازہ کو مفت کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ کسانوں نے سرسا دہلی ہائی وے پر ٹول کے خلاف احتجاج کیا ۔کسان تنظیموں کے علاوہ ٹریڈ یونینوں اور پنچایت کھاپس نے چرخی دادری کے دہلی روڈ پر واقع مور والا ٹول بند کر دیا ۔ اس کے علاوہ دادری-دہلی سڑک بھی بلاک کر دی گئی ہے۔ جس کے باعث سڑک کے دونوں اطراف گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگ گئیں۔ سی آئی ٹی یو کی ریاستی صدر سریکھا دیوی سمیت مختلف کسان تنظیموں کے علاوہ پھوگاٹ اور سنگوان کھاپ کے عہدیدار بھی موقع پر پہنچ گئے ہیں۔ کسان اپنے ٹریکٹروں کے ساتھ ٹول پر کھڑے ہیں اور اپنے مطالبات کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ روڈ ویز ملازمین نے بس اسٹینڈ پر بسوں کو روک کر دادری بس اسٹینڈ پر دھرنا شروع کردیا ہے۔ دوسری طرف سونی پت میں بھارت بند کا بہت کم اثر دیکھا گیا ہے۔ یہاں حالات روزمرہ کی طرح نارمل ہیں۔ بھیوانی ضلع میں بھی کم و بیش یہی صورتحال ہے۔ کسانوں کی حمایت کرتے ہوئے پنجاب کی پرائیویٹ بس انڈسٹری نے بھی پرائیویٹ بسیں بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ صرف ایمرجنسی گاڑیوں کو ہی اس بند سے مستثنیٰ رکھا جائے گا۔علاوہ ازیں مذاکرات کا تیسرا دور بے نتیجہ رہا۔ کسان اتوار تک شمبھو سرحد سے آگے نہیں بڑھیں گے۔












