’انٹرنیشنل کورٹ اور غزہ کے لیے انصاف ‘کے عنوان سے کانسٹی ٹیوشن کلب آف انڈیا میں عوامی مذاکرے کا انعقاد ،فلسطینی سفیر عدنان ابو الحیجا سمیت سیاسی او ر سماجی شخصیات کی شرکت
5؍مہینے سے غزہ پر جاری ہیں حملے
حملے میں اب تک 29؍ہزار فلسطینی مارے گئے
حملے میں 85؍صحافی ، 152؍یواین ورکر ہلاک
12000؍فلسطینی بچے اب تک مارے گئے
عالمی عدالت نے غزہ پر حملے کو قتل عام قرار دیا
ممتاز عالم رضوی
نئ دہلی :غزہ پر گزشتہ 5؍مہینے سے جاری اسرائیلی حملے کے خلاف ہندوستان سے بھی مضبوط آواز بلند ہوئی ہے ۔سماجی اور سیاسی شخصیات کے ساتھ ساتھ صحافیوں نے بھی شرکت کی اور مطالبہ کیا کہ فوری طور پر جنگ بندی کی جائے اور فلسطین کو آزاد کیا جائے۔ ہندوستانی شہریوں کی جانب سے یہاں کانسٹی ٹیوشن کلب آف انڈیا میں ’’ انٹر نیشنل کورٹ اور غزہ کے لیے انصاف ‘‘ کے عنوان سے ایک مذاکرے کا اہتمام کیا گیا۔ اس میں فلسطین کے سفیر ہند عدنان ابو الحیجا ، سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید ، کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اور رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی ، سی پی آئی لیڈر امرجیت کور ، ایڈوکیٹ آنند گروور ، سی پی آئی ایم ایل لبریشن کے لیڈر دپانکر بھٹاچاریہ ،سینئر صحافی سدھارتھ وردھ راجن ، سی پی ایم لیڈر شبھاشنی علی،پروفیسر اپوروا نند کے علاوہ کئی اہم شخصیات نے شرکت کی۔ واضح رہے کہ گزشتہ پانچ مہینے سے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جنگ جاری ہے۔ اسرائیلی حملے میں اب تک 29ہزار سے زیادہ فلسطینی مارے جا چکے ہیں جن میں زیادہ تر بچے اور خواتین شامل ہیں۔ 70؍ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہیں۔ مارے گئے لوگوں میں 85؍صحافی اور میڈیاورکر ، 150؍کے قریب یون این ورکر ، 600؍کے قریب طبی کارکن اور 12؍ہزار بچے شامل ہیں ۔حالانکہ یہ آن ریکارڈ تعداد ہے جبکہ ان کی تعدا د اس سے بہت زیادہ بتائی جا رہی ہے کیونکہ بہت سارے افراد مبلے میں دبے ہوئے ہیں اور لاپتہ ہیں ۔ اسرائیلی حملے میں غزہ کے زیادہ تر اسپتال تباہ ہو چکے ہیں۔ غزہ کی کل 24؍لاکھ آبادی میں سے 20؍لاکھ آبادی بے گھر ہو چکی ہے اور دفاع میں پناہ لیے ہوئے ہے اور اب اسرائیل یہاں پر بھی ہوائی حملے کر رہا ہے۔ در اصل اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے حملے کے خلاف جنوبی افریقہ کی جانب سے انٹر نیشنل کورٹ میں پٹیشن داخل کی گئی تھی جس پر سماعت کرتے ہوئے عالمی عدالت نے کہا کہ اسرائیل کو ایسےکا موں کو روکنے کے لیے ’’ اپنی طاقت کے مطابق سبھی طریقہ کار اپنانے چاہئے ۔‘‘ مذاکرے میں یہ بات کہی گئی کہ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ عالمی عدالت نے فلسطینیوں کے قتل عام کے معاملہ میں اسرائیل کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔اس سلسلہ میں افریقہ کی جانب سے قتل عام کے جوثبوت پیش کیے گئے اس کو قبول کیا اور اس کو قتل عام قرار دیا ۔ مذاکرے میں مطالبہ کیا گیا کہ عالمی عدالت کے اس تاریخی فیصلے کے حکم کے بعد آئی سی جے کے دیگر ملک کے اراکین اور ہندوستان سمیت قتل عام کنونشن کے دستخت دہندگان پر اسرائیل کی فوج کو تجارتی طور پر مدد یا سہولت دینا بند کرنے کی اخلاقی ذمہ داری ہے اور بند کرنا چاہئے۔ فلسطینی سفر عدنان نے موجودہ صورت حال پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ہر روز فضائی حملے اسرائیل کر رہا ہے لیکن کوئی روکنے والا نہیں ہے۔ایسا لگتا ہے جیسے تمام عالمی طاقتیں ناکام ہو گئی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہماری اپیل ہے کہ فوری طور پر اسرائیل حملے بند کیے جائیں اور فلسطین کو آزاد کیا جائے ۔ اس موقع پر سبھاشنی علی نے مودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ ایک طرف اسرائیل سے کہتے ہیں کہ مارو لیکن ذرا کم مارو اور دوسری طرف اڈانی اسرائیل کو ڈرون بھیج رہے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ حماس نے جب حملہ کیا تھا تو اس کے بعد پی ایم مودی کا جو بیان آیا وہ جذبات میں نہیں آیا تھا بلکہ تین صوبوں میں اسمبلی انتخابات تھے اور یہ حکومت دکھانا چاہتی تھی کہ ہم اسرائیل کے ساتھ ہیں اور مسلمان فلسطین کے ساتھ ہے ۔یہ پوری پلاننگ کے ساتھ کیا گیا تھا ۔انھوں نے کہا کہ پوری دنیا میں احتجاج ہو رہا ہے لیکن ہم دہلی میں احتجاج نہیں کر سکتے یہ کیا ہے ؟ سلمان خورشید نے فلسطین کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا پر بے بسی طاری ہے ۔ ہم اور ہماری پارٹی ہمدردی ظاہر کر رہی ہے لیکن اس سے کیا ہوتا ہے کیاجنگ رک جائے گی ؟ لوگوں کا قتل عام رک جائے گا ۔












