کاس گنبج: /سماج نیوز سروس ۔اتر پردیش کے کاس گنج ضلع میں ایک بڑا سڑک حادثہ پیش آیا ہے۔ صبح تقریباً 10 بجے عقیدت مندوں سے بھری ایک ٹریکٹر ٹرالی پٹیالی-دریاو گنج سڑک پر بے قابو ہوکر تالاب میں گر گئی۔ ٹریکٹر ٹرالی تالاب میں جا کر الٹ گئی۔ جس میں زیادہ تر عقیدت مند ڈوب گئے۔ اس حادثے میں اب تک 24 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ مرنے والوں میں آٹھ خواتین اور بچے شامل ہیں۔کئی شدید زخمی عقیدت مندوں کا ضلع اسپتال میں علاج چل رہا ہے اور کچھ کو ریفر کر دیا گیا ہے۔ جائے واردات سے لے کر ضلع اسپتال تک افراتفری کا ماحول ہے۔ ڈی ایم، ایس پی اور دیگر انتظامی اور پولیس افسران موقع پر پہنچ گئے ہیں۔ راحت اور بچاؤ کا کام کیا جا رہا ہے۔ خاندانوں میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ مرنے والوں میں ایک ہی خاندان کے کئی لوگ شامل ہیں۔انتظامیہ کی جانب سے اب تک 22 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ سی ایم او ڈاکٹر راجیو اگروال نے بتایا کہ پٹیالی کے سی ایچ سی میں سات بچوں اور آٹھ خواتین کو مردہ قرار دیا گیا ہے۔ دیگر زخمیوں کو جنہیں ایمبولینس کے ذریعے ضلع اسپتال لایا گیا تھا ان کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ صورتحال زیادہ سنگین ہے۔
اترپردیش کے ضلع کاس گنج میں ہفتہ کو ہوئے ٹرکٹر۔ٹرالی حادثے میں مہلوکین کی تعداد بڑھ کر 24تک پہنچ گئی۔ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی ہدایت پر مہلوکین کے اہل خانہ کو دو۔ دو لاکھ روپئے اور زخمیوں کے اہل خانہ کو 50۔50ہزار روپئے کے مالی مدد دینے کا اعلان کیا گیا ہے ۔موصول اطلاع کے مطابق مہلوکین کے اہل خانہ سے ملنے اور ان کی ڈھارس بندھانے کے لئے مہلوکین کی احترام کے ساتھ آخری رسوم کی ادائیگی کی نگرانی کے لئے آگرہ زون کی اڈیشنل ڈائرکٹر جنرل آف پولیس(اے ڈی جی)انوپم کلریشٹھ ایٹہ ضلع کے جیتھرا تھانہ علاقے کے کسا گاؤں پہنچنے والی ہیں۔آج صبح ضلع ایٹہ کے جیتھرا تھانہ علاقے کے کسا گاؤں باشندہ ٹرکٹر ٹرالی پر سوار ہوکر ماگھ پورنما اسنان کے لئے کادرگنج گنگا گھاٹ جارہے تھے ۔ عقیدت مندوں سے بھری ٹرکٹر۔ٹرالی کے تالاب میں گرنے سے 24عقیدت مندوں کی موت ہوگئی اور دیگر کئی زخمی ہوگئے ۔ایٹہ ضلع کے افسر پریم رنجن سنگھ اور سینئر ایس پی(اے ایس پی) راجیش کمار سنگھ نے کسا گاؤں کا دورہ کر مہلوکین کے اہل خانہ سے مل کر ان کی ڈھارس بندھائی۔ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ایٹہ پریم رنجن سنگھ نے بتایا کہ سبھی مہلوکین کی آخری رسوم کی ادائیگی انتظامیہ کرائے گا۔ اس کے لئے سبھی انتظامات کر لئے گئے ہیں۔ ڈی ایم نے بتایا کہ وزیراعلی کی ہدایت پر مہلوکین کے اہل خانہ کو دو ۔ دو لاکھ روپئے اور زخمیوں کے اہل خانہ کو 50۔50 ہزار روپئے کی مالی مدد دی جائے گی۔سنگھ نے بتایا کہ مہلوکین کے اہل خانہ کو کنبے کے سربراہ کی موت ہونے کی صورت میں کسان انشورنس اسکیم کے تحت پانچ لاکھ روپئے کا کسان انشورنس کا بھی فائدہ دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ابھی تک اس حادثے میں 22عقیدت مندوں کی موت کی تصدیق ہوچکی ہے ۔ انہوں نے مہوکین کی تعداد بڑھنے کے شبہ کا اظہار کیا ہے ۔












