ودودرا، 21 مارچ/ جموں کشمیر کی سرینگر کی سیٹ سے گجرات کے امیدوار مولانا راجانی حسن علی گجراتی نے کہا ہیکہ جموں کشمیر میں عدالت عظمیٰ کی ہدایت کے مطابق 30 ستمبر سے پہلے اسمبلی انتخابات کئے جائینگے جس سے ہم سب کو مطمئن رہنا چاہئے، مزید مولانا راجانی حسن علی گجراتی نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہیکہ جموں کشمیر کے الیکشن میں سیکیوریٹی کے علاوہ بہت ہی احتیاط برتنے کی ضرورت پڑتی ہے, مولانا راجانی نے کہا کہ پورے ملک میں سے ایم پی کے الیکشن سیکڑوں امیدوار مختلف جگہوں سے گھڑے ہوتے ہیں لیکن ان سیکڑوں میں سے کسی ایک کا بھی نام سن نے تک کو نہیں ملتا ہے، لیکن میرا نام جموں کشمیر کی راجدھانی سرینگر سے جوڑتے ہی ملک اور بیرون ملک میں چہ می گوئیاں کا ماحول بہت ہی سخت گرم ہو گیا ہے جس کے سبب ہم عدالت عظمی کی رائی و فیصلہ کو قابل تعریف سمجھتے ہے، مولانا راجانی نے کہا کہ جموں کشمیر کے حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے جو فیصلہ عدالت عظمی نے کیا ہے وہ لائق تحسین ہیکہ پہلے پانچ چرنوں میں یعنی 19 اپریل سے چھبیس مئی تک لوک سبھا کہ الیکشن ہونگے اور اس کے بعد تیس ستمبر تک راجیہ سبھا کے الیکشن کرائے جائینگے تاکہ وادی جموں کشمیر میں امن و امان بر قرار رہے اور کوئی ناگوار گھٹنا نہ ہو اس لئے ہم عدالت عظمی کے فیصلہ سے خوش ہیں












