اردن اور اماراتی فضائیہ کی جانب سے شمالی غزہ کے متاثرین کے لیے مشترکہ امدادی ایئرڈراپ آپریشن کیا گیا ۔متحدہ عرب امارات کی سرکاری خبررساں ایجنسی ’وام‘ کے مطابق مشترکہ امدادی آپریشن اردن اور امارات کے درمیان غزہ میں فلسطینی عوام کو امداد پہنچانے کے لیے تعاون کے ضمن میں کیا گیا ہے۔ایئرڈراپ آپریشن کا مقصد شمالی غزہ اور ان علاقوں میں امداد پہنچانا ہے جہاں زمینی رسائی مشکل ہے۔مشترکہ آپریشن میں غزہ میں 22 ٹن امدادی سامان ایئرڈراپ کیا گیا، جبکہ امدادی آپریشن کو الفارس الشہم تھری کا نام دیا گیا۔واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے قبل ازیں طیاروں، بحری جہازوں اور ٹرکوں کے ذریعے بھی امدادی سامان غزہ کے متاثرین کے لیے ارسال کیا جا چکاہے۔بھوک و افلاس کے مارے غزہ کے فلسطینیوں کیلئے فضائی امداد بھی امتحان بن گئی۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امدادی سامان کے حصول کے لئے سمندر میں چھلانگ لگانے والے بارہ فلسطینی ڈوب گئے جبکہ خشکی پر گرنے والے امدادی سامان لینے کی کشمکش میں بھگدڑ سے چھ فلسطینی شہید ہوگئے۔
غزہ میڈیا دفتر کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ غزہ کے شمالی ساحلی علاقے میں فضا سے گرائی جانے والی امداد کچھ سمندر اور کچھ خشکی پر گری۔بحیرہ روم میں گرنے والے امدادی پیکٹ لینے کیلئے سمندر میں چھلانگ لگانے والے 12 فلسطینی سمندر میں ڈوب کر شہید ہوگئے۔غزہ میڈیا دفتر کے مطابق خشکی میں گرنے والا امدادی سامان لینے کیلئے بھگدڑ مچنے سے 6 فلسطینی شہید ہوئے۔
غزہ میڈیا دفتر کے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شمالی غزہ میں بدترین فاقہ کشی کی صورتحال ہے۔ قحط جیسی صورتحال میں فضا سے امداد گرانا بدسلوکی اور فضول ہے۔غزہ میڈیا دفتر نے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ میں امداد کی فراہمی کے لیے زمینی راستے فوری بحال کیے جائیں۔اگر فوری طور پر زمینی راستے بحال نہیں کئے گئے تو بہت بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا اندیشہ ہے۔












