سرینگر مقامی سیاسی جماعتوں نیشنل کانفرنس ، پیپلز ڈیموکرٹیک پارٹی اور کانگریس پر کشمیری نوجوانوں کے ہاتھوں میں بندوق تھما دینے اور فرضی انکاونٹرس کرانے کا الزام عائد کرتے ہوئے وزیر داخلہ امیت شاہ نے اعلان کیا کہ جموں کشمیر میں اسمبلی انتخابات عدالت عظمیٰ کی جانب سے مقرر کردہ تاریخوں پر ہی منعقد ہونگے ۔ انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر میں اب ہڑتالیں ، پتھرائو اور سڑکوں پر احتجاج تاریخ بن چکی ہے جبکہ وزیر اعظم نریندر مودی نے دہشت گردی کو بستر مرگ پہنچا دیا ۔ ’’ جس کشمیر کیلئے مکھرجی نہ دیا بلیدان، وو کشمیر ہمارا ہے کا نعرہ لگاتے ہوئے شاہ نے مقامی نوجوانوں سے کہا کہ وہ مقامی سیاسی پارٹیوں کو ووٹ نہ دیں ۔ تفصیلات کے مطابق جموں کے پالورا علاقے میں میگا انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ بی جے پی کو وادی میں کمل کے کھلتے دیکھنے کی جلدی نہیں ہے کیونکہ پارٹی دل جیتنے کے عمل میں ہے۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے امیت شاہ نے الزام عائد کیا کہ کانگریس، نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی فرضی انکاؤنٹر کرانے اور نوجوانوں کے ہاتھوں میں بندوقیں دینے میںملوث ہے اور انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ان پارٹیوں کا ووٹ نہ دیں ۔ این سی، پی ڈی پی اور کانگریس کے خلاف طنز و مزاح کا آغاز کرتے ہوئے وزیر داخلہ شاہ نے کہا کہ یہ جماعتیں دہشت گردی کو فروغ دینے اور نوجوان لڑکوں کے ہاتھ میں بندوقیں دینے کی ذمہ دار ہیں۔انہوں نے کہا ’’ میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ سب سے زیادہ فرضی جھڑپیں کس کے دور میں ہوئے؟ کیا اس وقت ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی حکومت نہیں تھی؟۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات سپریم کورٹ آف انڈیا کی اعلان کردہ تاریخوں پر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی تاخیر نہیں ہوگی۔ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ جموں و کشمیر میں ستمبر 2024 تک اسمبلی انتخابات کرائے جائیں گے۔پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی پر طنز کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ کہیں گی کہ اگر دفعہ 370 کو واپس لیا جاتا ہے تو کوئی بھی ترنگا نہیں لے گا۔ انہوں نے کہا’’آج دفعہ 370 ہمیشہ کیلئے دفن ہو گیا ہے اور پھر بھی ترنگا عزت اور وقار کے ساتھ بلند ہو رہا ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ آج ڈاکٹر شیما پرساد مکھرجی کا ایک وی ودھان، ایک پردھان، ایک نشان کا خواب پورا ہو رہا ہے۔ شاہ نے کہا کہ آج دہشت گردی بستر مرگ پر ہے، پتھراؤ، بند کی کال اور سڑکوں پر احتجاج ایک تاریخ ہے۔ شاہ نے کہا’’وزیراعظم نریندر مودی نے ان نوجوانوں کے ہاتھ میں گودیں سونپ دی ہیں جو پہلے پتھر پکڑے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا ’’وہ تبدیلی ہے جو ہم کشمیر میں لائے ہیں‘‘۔شاہ نے کہا کہ انہوں نے پارلیمنٹ کے فلور پر کہا تھا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ گجروں اور بکروالوں کا حصہ کم کیے بغیر پہاڑیوں کو مناسب ریزرویشن دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا ’’ہم نے سب کو مناسب ریزرویشن دیا ،گوجر بیکروال، پہاڑی، والمیکی، اور او بی سی۔ ہم نے خواتین کو بھی ریزرویشن دیا۔‘‘انہوں نے کہا کہ بی جے پی اس بات کو یقینی بنانے پر غور کر رہی ہے کہ جموں کا ہر سرحدی گاؤں جموں شہر جیسا نظر آئے۔ آج جموں ترقی کر رہا ہے۔ یہ پہلا جموں تھا، جہاں ای بسیں چلنا شروع ہوئیں۔ آج ایمز ، آئی آئی ایمز ، آئی آئی ٹیز جموںو کشمیر میں ہیں اور ملک بھر سے طلباء یہاں پڑھنے کیلئے آ رہے ہیں۔ انہوںنے کہا ہم سوچے گڑھ بارڈر کو بھی واگہ بارڈر کی طرح تبدیل کرنے کیلئے پرعزم ہیں۔ آخر میں، وزیر داخلہ نے نعرہ لگایا’’جس کشمیر کے لیے مکھرجی نہ دیا بلیدان، وہ کشمیر ہمارا ہے ‘‘ ۔












