نئی دہلی،28 اپریل،ایجنسیاں: وزیر اعظم نریندر مودی انتخابی مہم کے لیے اتوار کو کرناٹک پہنچے۔ آج یہاں ان کی چار ریلیاں ہے۔ سب سے پہلے انہوں نے بیلگاوی میں ایک اجلاس سے خطاب کیا۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ ‘کرناٹک کے تمام ووٹروں کو مبارک ہو، میں کرناٹک میں جہاں جہاں بھی گیا، ایک ہی آواز سنائی دیتی ہے، ایک بار پھر مودی سرکار۔انہوں نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ کانگریس نے ای وی ایم کے بہانے ہندوستان کی جمہوریت کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔ ہندوستان 10 سالوں میں مزید طاقتور ہو گیا ہے ۔ ہندوستان کو جمہوریت کی ماں کہا جا رہا ہے۔ 25 کروڑ لوگ غربت سے باہر آئے۔ جب ہندوستان ترقی کرتا ہے تو ہر ہندوستانی فخر محسوس کرتا ہے۔ کانگریس ملک کے مفاد سے اتنی دور ہو چکی ہے اورخاندان کے مفاد میں اتنی کھو چکی ہے کہ ملک کی ترقی اچھی نہیں لگ رہی ہے۔ کانگریس ہندوستان کی ہر کامیابی پر شرمندہ ہونے لگی ہے۔انہوں نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ کانگریس نے ای وی ایم کے بہانے ہندوستان کی جمہوریت کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔ ہندوستان 10 سالوں میں مزید طاقتور ہو گیا ہے ۔ ہندوستان کو جمہوریت کی ماں کہا جا رہا ہے۔ 25 کروڑ لوگ غربت سے باہر آئے۔ جب ہندوستان ترقی کرتا ہے تو ہر ہندوستانی فخر محسوس کرتا ہے۔ کانگریس ملک کے مفاد سے اتنی دور ہو چکی ہے اورخاندان کے مفاد میں اتنی کھو چکی ہے کہ ملک کی ترقی اچھی نہیں لگ رہی ہے۔ کانگریس ہندوستان کی ہر کامیابی پر شرمندہ ہونے لگی ہے۔وزیراعظم مودی نے مزید کہا کہ کانگریس کے شہزادے گناہ کو آگے بڑھا رہے ہیں، راجپوتوں پر ان کا بیان سب نے سنا۔ کانگریس کے شہزادے نے چھترپتی شیوراج، چنما مہارانی جیسے عظیم لوگوں کی توہین کی جن کی حب الوطنی آج بھی ہمیں متاثر کرتی ہے۔ یہ خوشامد کی سیاست کے لیے جان بوجھ کر دیا گیا بیان ہے۔ راجا اور مہاراجا کو تو برا بھلا کہہ دیا، لیکن بادشاہوں اور سلطانوں کے مظالم پر شہزادے کا منہ بند ہو جاتا ہے۔وزیر اعظم مودی نے مزید کہا کہ ہمارے مندروں کو توڑ کر ان کی توہین کرنے والے اورنگ زیب کی تعریف کرنے والوں سے ہاتھ ملاتے ہیں۔ گئو ہتیا اور لوٹ پاٹ کرنے والے نواب ، شہزادے کو وہ یاد نہیں آئے، جنہوں نے تقسیم ہند میں بڑا کردار ادا کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ امن و امان بد سے بدتر ہوتا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہاں بیلگاوی میں ایک بہن کے ساتھ جو ہوا اور جین منی کے ساتھ جو ہوا وہ شرمناک ہے۔ ہگلی میں ہماری ایک بیٹی کے ساتھ جو ہوا اس نے پورے ملک میں بھونچال لا دیا۔ جب بنگلور کے ایک کیفے میں بم دھماکہ ہوا تو اسے بھی سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔












