دبئی:فرانسیسی اخبار ’’لی مونڈے‘‘ نے ایک رپورٹ میں نائجر کی فوجی حکومت کی جانب سے ایران کو سیکڑوں ٹن ریفائنڈ یورینیم یا "ییلو کیک” فروخت کرنے کی کوشش کے بارے میں بتایا ہے۔ نائجر نے پہلے باضابطہ طور پر ایران کو یورینیم کی فراہمی سے انکار کیا تھا۔متعدد مغربی سرکاری ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے اخبار ’’لی مونڈے‘‘ نے نائجر اور ایران کے درمیان یورینیم کی فروخت کے حوالے سے خفیہ معاہدے” کے بارے میں ویب سائٹ افریقہ انٹیلی جنس” کی طرف سے ڈیڑھ ماہ قبل شائع ہونے والی معلومات کی تائید کی۔ویب سائٹ ’’افریقہ انٹیلی جنس‘‘ نے اپریل کے آخر میں انکشاف کیا تھا کہ نائجر اور ایران کے درمیان 300 ٹن پیلے رنگ کے کیک کی خریداری کے لیے خفیہ مذاکرات ہو رہے ہیں۔ امریکی صدر بائیڈن کی انتظامیہ نے اس رپورٹ کو بڑی حساسیت کے ساتھ مانیٹر کیا۔ اس نے فرانسیسی کمپنی ’’یورانو‘‘ جو نائجر میں یورینیم کی کان کنی کرتی ہے کو بھی ایک حساس صورتحال میں ڈال دیا تھا۔ رپورٹ میں بتائے گئے پیلے رنگ کے کیک کی قیمت تقریباً 56 ملین ڈالر بتائی گئی ہے۔
نائجر میں صدارتی گارڈ نے گزشتہ سال اگست میں ملک کے صدر محمد بازوم کے خلاف فوجی بغاوت کی تھی اور اس کے بعد سے نائجر کے مغربی ممالک بالخصوص امریکہ اور فرانس کے ساتھ تعلقات خراب ہو گئے تھے۔ دہشت گردی کے بارے میں خدشات کے علاوہ نائجر اور خطے کے دیگر افریقی ممالک کی موجودہ صورتحال ایران کے ایٹمی معاملے کے متعلق بھی خدشات پیدا کر رہی ہے۔












