ترکی:حماس کی طرف سے جنگ بندی کی تجویز قبول کرنے کے اقدام کے بعد ترک صدر طیب ایردوآن نے اتوار کے روز کہا کہ امریکہ اور یورپی ممالک غزہ میں جنگ بندی پر رضامندی کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کی غرض سے کافی کوشش نہیں کر رہے۔
ترکیہ نے غزہ پر اسرائیل کے حملوں کی مذمت، فوری جنگ بندی کا مطالبہ اور مغرب کی طرف سے اسرائیل کی غیر مشروط حمایت پر تنقید کی ہے۔انقرہ نے اسرائیل کے ساتھ تمام تجارت روک دی اور کہا کہ اس نے جنوبی افریقہ کے اس اقدام میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا تھا جس میں اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالتِ انصاف (آئی سی جے) میں نسل کشی کا مقدمہ دائر کیا گیا۔استنبول میں مسلم علماء سے خطاب کرتے ہوئے ایردوآن نے کہا کہ حماس نے پائیدار جنگ بندی کی جانب ایک قدم” کے طور پر قطر اور مصر کی جانب سے جنگ بندی کی تجویز قبول کی تھی لیکن اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت جنگ ختم نہیں کرنا چاہتی۔
غزہ کے جس شہر کو اسرائیل نشانہ بنا رہا ہے، انہوں نے اس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "نیتن یاہو حکومت کا ردِعمل رفح میں معصوم لوگوں پر حملہ کرنا تھا۔ یہ واضح ہو گیا ہے کہ کون امن اور مذاکرات کے ساتھ ہے اور کون چاہتا ہے کہ جھڑپیں جاری رہیں اور مزید خونریزی ہو۔”
نیز انہوں نے کہا، "اور کیا نیتن یاہو کے بگڑے ہوئے روئیے پر کوئی شدید ردِعمل ہوا؟ نہیں۔ نہ یورپ اور نہ ہی امریکہ نے ایسا ردِعمل ظاہر کیا جو اسرائیل کو جنگ بندی پر مجبور کرے۔”
ترک سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ ایردوآن کے انٹیلی جنس چیف ابراہیم قالن نے اتوار کے روز دوحہ میں حماس کے رہنماؤں سے ملاقات کی جس میں جنگ بندی کے مذاکرات اور غزہ تک انسانی امداد کی رسائی پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
غزہ میں اسرائیل کا فوجی طرزِ عمل حالیہ ہفتوں میں بڑھتی ہوئی جانچ اور تنقید کی زد میں آیا ہے کیونکہ انکلیو میں شہریوں کی ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہوا ہے۔
جنگ میں بے گھر ہونے والے تقریباً 1.4 ملین فلسطینیوں کی پناہ گاہ رفح پر طے شدہ حملے کی وجہ سے اسرائیل اور اس کے اہم اتحادی واشنگٹن کے درمیان تعلقات میں گہری کشیدگی کو تقویت ملی ہے۔
انقرہ نے جمعہ کے روز جنرل اسمبلی کی طرف سے فلسطینیوں کے اقوامِ متحدہ کا مکمل رکن بننے کی حمایت کا خیرمقدم کیا۔ ایردوآن نے اتوار کے روز ووٹنگ کے بعد فلسطینی خودمختار ریاست کو تسلیم نہ کرنے والے ممالک سے اسے تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا لیکن واشنگٹن کو اور فلسطین کے خلاف ووٹ دینے والے دیگر ممالک کو تنقید کا نشانہ بنایا۔












