نئی دہلی13مئی ، پریس ریلیز،ہمارا سماج:گزشتہ روز غالب اکیڈمی نئی دہلی، میں ایک ادبی نشست کا انعقاد کیا گیا۔ جس کی صدارت جی آر کنول نے کی۔ انھوں نے کہا کہ سخت گرمی میں دور دراز سے اردو اور ہندی کے شاعر ت ف لائے اور اپنا کلا م پیش کیا۔بہت سے اچھے اشعار سننے کو ملے کچھ نئے لکھنے والوں کو اصلاح کی ضرورت ہے اگر وہ اپنا کلام یہاں پڑھنے سے پہلے دکھالیں تو بہتر کلام ہوجائے گا۔برنی صاحب نے جس انداز میں پڑھا اور غزل کے جو مخصوص الفاظ استعمال کئے اس سے سیکھا جاسکتا ہے۔اس موقع پر ہندی کی شاعرہ سنتوش کماری نے ماں کی عظمت پر ایک گیت سنایااور خورشید حیات نے ”مٹی کی ہانڈی“ کے عنوان سے ایک نظم پڑھی۔ اس نشست میں نارنگ ساقی نے بطور خاص شرکت کی۔ اس موقع پر موجود شعرا نے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔منتخب اشعار پیش خدمت ہیں ؎
قاتل کو پرملال کوئی اور بھی کرے
مقتل میں یہ کمال کوئی اور بھی کرے
جی آر کنول
شفق دیکھی تو قاتل میں یہ سمجھا
تیرا دامن نچوڑا ہے کسی نے
ظہیر احمد برنی
کشتیوں کا کر نظارہ، پانیوں کے رنگ دیکھ
کب کہاں ٹوٹا کنارا یہ کہانی پھر سہی
نسیم بیگم نسیم
اس موقع پر چشمہ فاروقی، عزیزہ مرزا، پروین ویاس،سپریا سنگھ، شکیل سونی پتی،ارون کمار صا حب آبادی، نعیم ہندوستانی، احترام صدیقی، پردیپ،جاوید عباسی،سنجیو نگم انام، رجنی، نیلم، عارف دہلوی، مہندر بھٹ وغیرہ نے اپنے اشعار پیش کیں۔ غالب اکیڈمی کے سکریٹری نے اعلان کیا کہ اگلی نشست 18/ مئی 2024کو ہوگی۔












