علی گڑھ، 24 مئی،سماج نیوز سروس: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ سنسکرت کی جانب سے خصوصی لیکچر سیریز کے تحت ہندوستان کی عظیم ادبی روایات اور اس کے علمی نظام پر روشنی ڈالنے کے لیے دو لیکچرز کا انعقاد کیا گیا، جس کی بنیاد قدیم ہندوستان میں موجود علم کے بے شمار نظاموں پر مبنی ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کے شعبہ سنسکرت کے پروفیسر جے پرکاش نارائن نے ‘بھارت کے ناٹیہ شاستر میں کاویالکشن-میمانسا’ پر ایک لیکچر دیا اور 36 قسم کی شاعرانہ خصوصیات اور زبان و قواعد کے تصور میں ان کے کردار پر تبادلہ خیال کیا۔ایک اور لیکچر میں، کروکشیترا یونیورسٹی، ہریانہ کے سنسکرت، پالی اور پراکرت کے شعبہ کے سابق سربراہ اور فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر راجیشور پرساد مشرا نے ‘قدیم ہندوستانی علمی نظام’ پر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ روحانیت کے بغیر مادی علم تباہ کن ہے اور یہ علم ہی ہے جو روحانیت کے ساتھ مل کر پوری نسل انسانی کی ہمہ گیر ترقی کی راہ ہموار کرتا ہے۔انہوں نے علم کی مختلف شاخوں جیسے طب، سرجری، ریاضی، فلکیات، علم نجوم، ماحولیات، معاشیات، سیاست، فن تعمیر، موسیقی، ایروناٹکس، زرعی سائنس، طبیعیات وغیرہ کے خصوصی حوالے سے قدیم ہندوستانی علمی نظام کی بنیادی قدر کو اجاگر کیا۔سنسکرت ڈپارٹمنٹ کے چیرمین پروفیسر ہمانشو شیکھر آچاریہ نے مقررین کا خیرمقدم کیا اور ان کا تعارف کرایا اور ہر انسان میں موجود بے پناہ صلاحیتوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ان صلاحیتوں کو پہچان کر اور مسلسل استقامت کے ذریعے زندگی کے اعلیٰ مقاصد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ڈاکٹر ظفر افتخار نے اظہار تشکر کیا۔












