سرینگر /25مئی / سماج نیوز سروس:بجلی فیس میں ہر ماہ اضافہ کیخلاف جنوبی کشمیر کے کئی دیہات میں صارفین نے محکمہ بجلی کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے فیس میںنظر ثانی کا مطالبہ کیا ہے ۔نمائندے نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ جنوبی کشمیر کے متعدد علاقوں میں محکمہ بجلی کی جانب سے فیس میں کافی اضافہ کیا گیا ہے اور ہر ماہ اس میں اضافہ کیا جا رہا ہے ۔ نمائندے پرویز وانی کے مطابق جنوبی کشمیر کے بیشتر مقامات پر بجلی کے فیس میں بے تاشہ اضافہ کے پیش نظر صارفین میں کافی تشویش کی لہر پائی جا رہی ہے اور انہوں نے ماہانہ بنیادوں پر بجلی فیس میں اضافہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ غریب عوام کیلئے بجلی کے فیس میں اضافہ ان کیلئے وبال جان بن چکا ہے ۔ نمائندے کے مطابق اننت ناگ، پلوامہ، کولگام اور شوپیان کے مختلف علاقوں کے مکینوں نے بتایا کہ حکام بغیر کسی سروے کے صارفین کو مہنگے بل بھیج رہے ہیں اور ہر ماہ تقریباً 200 روپے یا 300 ٹیرف میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک سال میں ان کا ماہانہ ٹیرف 500 روپے سے بڑھا کر 1800 روپے کے قریب کر دیا گیا ہے اور یہ بڑا اضافہ پہلے ہی مالی طور پر کمزور مقامی لوگوں پر بہت زیادہ نقصان اٹھا رہا ہے۔صارفین کا کہنا تھا کہ ان کے ٹیرف کو ناقابل برداشت حد تک بڑھا دیا گیا ہے بلکہ ہر ماہ اس میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے۔اننت ناگ کے کوکرناگ علاقے کے رہنے والے ندیم احمد نے کہا کہ اس علاقے کو بجلی کی غیر مقررہ کٹوتی کا سامنا ہے کیونکہ انہیں صرف چند گھنٹوں کیلئے سپلائی ملتی ہے لیکن ساتھ ہی ٹیرف میں ہر ماہ اضافہ کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بجلی کے نرخوں میں اضافہ کس بنیاد پر کیا جا رہا ہے جب کہ انفراسٹرکچر کو بالکل بھی اپ گریڈ نہیں کیا جا رہا اور کھمبوں کے بغیر نچلی لائنیں مقامی لوگوں کیلئے خطرہ بنی ہوئی ہیں۔صارفین نے پی ڈی ڈی سے اپیل کی کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں تاکہ لوگوں کو پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے اس سلسلے میں لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا، منیجنگ ڈائریکٹر پی ڈی ڈی اور دیگر حکام سے بھی مداخلت کی درخواست کی۔












