سعودی عرب:سعودی عرب وزارت خارجہ نے اسرائیلی افواج کی طرف سے فلسطینی عوام کے خلاف نسل کشی کا سلسلہ جاری رکھنے کی مذمت کرتے ہوئے رفح میں نہتے فلسطینی پناہ گزینوں کے خیموں کو نشانہ بنانے پراسرائیلی حکام کو مکمل طور پر ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ رفح اور تمام فلسطینی علاقوں میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کا ذمہ دار اسرائیل ہے۔
وزارت خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیلی افواج کی طرف سے تمام بین الاقوامی اور انسانی قراردادوں، قوانین اور اصولوں کی مسلسل خلاف ورزیاں جاری ہیں جب کہ اس پر عالمی برادری کی خاموشی افسوسناک ہے۔
سعودی عرب کی پریس ایجنسی ’ایس پی اے‘ کی رپورٹ کے مطابق مملکت نے بین الاقوامی برادری کی ضرورت پر زور دیا کہ وہ فلسطینیوں کی نسل کشی روکنے کے لیے زیادہ اپنی ذمہ داریاں سنبھالے، برادر فلسطینی عوام کے خلاف قتل عام کو روکے اور ذمہ داروں کا کڑا احتساب کرے۔
اسرائیلی فوج کی طرف سے محفوظ قرار دیے گئے رفح کے علاقے المواصی میں قائم السلام کیمپ میں بے گھر فلسطینیوں پر بمباری کی تھی جس کے نتیجے میں 45 معصوم بچے، خواتین اور بزرگ شہری شہید اور سیکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔
رفح میں اس قتل عام پر عرب ممالک اور عالم اسلام کی طرف سے سخت مذمت کی گئی اور اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
دریں اثناامریکی محکمہ خارجہ نے زور دے کر کہا ہے کہ امریکہ نے واقعے کی اطلاع ملتے ہی رفح میں حملے کے بارے میں گہری تشویش کا اظہار کرنے کے لیے اسرائیلی حکومت سے رابطہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن اسرائیلی تحقیقات کے نتائج پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا کہ واشنگٹن اسرائیل پر بین الاقوامی انسانی قانون کی مکمل پابندی کرنے، شہریوں پر اس کی کارروائیوں کے اثرات کو محدود کرنے اور انسانی امداد کے بہاؤ کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتا رہے گا۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ترجمان جان کربی نے منگل کو کہا کہ واشنگٹن کا خیال ہے کہ رفح پر اسرائیل کا کوئی بھی بڑا زمینی حملہ بلا جواز ہے۔












