واشنگٹن :سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نیویارک میں 12 رکنی جیوری نے ’ہش منی‘ کیس میں قصوروار قرار دے دیا ہے۔ فیصلے کے بعد صدر ٹرمپ نے ٹرائل کو غیر شفاف قرار دیا اور کہا کہ جج متعصبانہ رویہ رکھتے تھے۔
جیوری نے دو روز میں 11 گھنٹے سے زائد وقت تک اس معاملے کی سماعت کی جس کے بعد چند منٹوں میں متفقہ فیصلہ پڑھ کر سنایا گیا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک وکیل نے کہا ہے کہ وہ جلد از جلد اپیل دائر کریں گے۔
ٹرمپ پر الزام تھا کہ انہوں نے ایک وقت میں اپنے سیاسی فکسر، مائیکل کوہن کو 2016 کے انتخابات سے پہلے، پورن فلموں کی اداکارہ اسٹورمی ڈینیئلز کو ایک لاکھ تیس ہزار ڈالر ادا کرنے کے لیے کہا تھا تاکہ ڈینیئلز کو ان کے اس دعویٰ پر خاموش کیا جا سکے کہ ان کا ٹرمپ کے ساتھ ایک رات کا جنسی تعلق قائم ہوا تھا۔
ٹرمپ امریکہ کی 250 سالہ تاریخ کے ایسے پہلے سابق امریکی صدر بن گئے ہیں جو جرم کے مرتکب پائے گئے ہیں۔ ٹرمپ اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کی تردید کرتے آئے ہیں۔
77 سالہ رپبلکن ٹرمپ جنہیں ضمانت کے بغیر رہا کر دیا گیا تھا، اب ایک مجرم ہیں، یہ ایک ایسے ملک میں پہلی بار تاریخی اور چونکا دینے والا واقعہ ہے جس کے صدر کو اکثر ’دنیا کا سب سے طاقتور شخص‘ قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کو نومبر میں صدر جو بائیڈن کے خلاف اپنا انتخابی مقابلہ جاری رکھنے سے نہیں روکا گیا ہے حتیٰ کہ جیل جانے کی صورت میں بھی نہیں۔
یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق فکسر مائیکل کوہن نے گواہی دی ہے کہ ٹرمپ نے 2016 کے انتخابات کے آخری ہفتوں میں سٹورمی ڈینیئلز کو ایک لاکھ 30 ہزار ڈالر کی خفیہ ادائیگی کی منظوری دی تھی، جب ٹرمپ کو جنسی بدسلوکی کے متعدد الزامات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔












