اسرائیلی حکام کے مطابق جنوبی لبنان سے حزب اللہ کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد پیر کی رات شمالی اسرائیل میں وسیع پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی، جس سے سرحد کے قریب واقع ایک قصبے کے کچھ رہائشیوں کو علاقہ خالی کرنا پڑا۔پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ "فائر یونٹس، متعدد ایجنسیوں کی مدد سے آگ بجھانے کے لیے کام کر رہے ہیں”۔ پولیس کا کہنا ہے کہ لبنان کی سرحد کے قریب واقع قصبے کریات شمونہ میں بہت سے گھروں کو خالی کرالیا گیا ہے۔خبر رساں ایجنسی’اے ایف پی‘کے فوٹوگرافر نے لبنان کے ساتھ سرحدی علاقوں میں بھڑکتی آگکے مناظر کی کوریج کی۔گذشتہ برس سات اکتوبر سے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تقریباً روزانہ بمباری کا تبادلہ ہوتا ہےاسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس نے آگ کی شدت کے پیش نظر فائر فائٹرز کی مدد کے لیے کمک تعینات کی ہے۔ ایک بیان میں فوج نے وضاحت کی ہے کہ "چھ ریزرو فوجی دھوئیں کی وجہ سے سانس لینے کی دشواری کے باعث ہسپتال منتقل کیےگئے ہیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ "فورسز نے ان جگہوں کو اپنے کنٹرول میں لے لیا جہاں آگ لگی تھی۔ اس مرحلے پر رہائشیوں کو کوئی خطرہ نہیں ہے”۔
اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے دفتر نے کہا ہے کہ وہ آگ پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔












