غزہ:فلسطینی مزاحتمی تحریک ’حماس‘ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کو انٹرویو میں اس رائے کا اظہار کیا ہے ’’کہ تنظیم کے پاس موجود 120 اسرائیلی یرغمالیوں کی قسمت کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں ہے۔‘‘ان کے مستقبل کا معاملہ اسرائیل کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ حماس نے رہائی کے معاہدے کے بدلے غزہ کی پٹی میں مستقل فائر بندی کے بعد اسرائیلی فوج کے علاقے سے انخلا کا مطالبہ کیا ہے۔
لبنان میں حماس کے سینئیر رہنما اسامہ حمدان نے ’سی این این‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے کی حالیہ پیش کش جنگ بندی خاتمے کے لیے حماس کے مطالبات سے ہم آہنگ نہیں تھی۔اسامہ حمدان نے گذشتہ مہینے اعلان کردہ پیشکش کو اسرائیلی منصوبہ قرار دیا ہے۔
حماس، بقول اسامہ حمدان، سیز فائر کے بارے میں واضح اسرائیلی موقف چاہتی ہے۔ نیز غزہ سے مکمل انخلا کے بعد فلسطینیوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار بھی حماس کے مطالبے میں شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قیدیوں کے تبادلے کے لیے ہم کسی بھی فیئر ڈیل پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔
معاہدے تک پہنچنے میں مدد فراہم کرنے والے ثالث ملکوں مصر، امریکہ اور قطر کے مذاکرات جاری ہیں، اسی اثنا میں حماس کے ایک ذریعے نے ’العربیہ‘ اور ’الحدث‘ کو بتایا کہ بال اب اسرائیلی کورٹ میں ہے کیونکہ اسرائیل کو ہمارا جواب ثالثوں کے ذریعے بھجوایا جا چکا ہے۔
حماس اور اسلامی جہاد کے مشترکہ وفد نے معاہدے میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ملک قطر کو اپنا جواب قطری وزیر اعظم محمد بن عبدالرحمن آل ثانی سے ملاقات میں پیش کیا ہے، اس پیغام سے متعلق مصر کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔
حماس کے ذرائع نے بتایا ہے ’’کہ تنظیم کو پیش کیے جانے والے مجوزہ امریکی منصوبے میں پائیدار سیز فائر کا ذکر شامل نہیں اور نہ ہی غزہ کی پٹی سے اسرائیلی انخلا سے متعلق دفعہ اس میں شامل ہے۔
حماس کے بائیڈن کی تجویز کو قبول کرنے کے اعلان تک اسرائیل مذاکرات میں نہیں جائے گا: صہیونی میڈیا
دریں اثناامریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ انہوں نے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے پر پہنچنے کی امید نہیں کھوئی ہے۔ لیکن انہوں نے فلسطینی تحریک حماس سے معاہدے کے لیے کوششیں تیز کرنے کا مطالبہ کردیا۔ جب بائیڈن سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں یقین ہے کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ جلد طے پا جائے گا تو انہوں نے جواب دیا۔ ’’ نہیں‘‘ میں نے امید نہیں ہاری لیکن یہ مشکل ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا حماس کو کارروائی کرنی چاہیے۔بعد ازاں بائیڈن نے کہا حماس تحریک جنگ بندی کے منصوبے پر عمل درآمد اور غزہ میں قیدیوں کی رہائی میں اب تک سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔بائیڈن نے جی سیون سربراہی اجلاس میں صحافیوں کو بتایا کہ میں نے ایک تجویز پیش کی تھی جسے سلامتی کونسل، جی سیون اور اسرائیلیوں نے منظور کر لیا تھا اور اب تک کی سب سے بڑی رکاوٹ حماس ہے جو ملتی جلتی تجویز کے باوجود دستخط کرنے سے انکاری ہے۔












