تہران(ہ س)۔ایران میں آج جمعے کے روز ملک کے نئے صدر کے انتخاب کے لیے عوام ووٹ ڈال رہے ہیں۔ انتخابات کا مقصد سابق صدر ابراہیم رئیسی کی جگہ ملک کا نیا صدر چننا ہے۔ رئیسی گذشتہ ماہ سرکاری ہیلی کاپٹر گرنے کے حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔صدارتی انتخابات کے سلسلے میں ایرانی رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد 6.1 کروڑ ہے۔ ان کے لیے ملک بھر میں 58640 انتخابی مراکز بنائے گئے ہیں۔حالیہ صدارتی انتخابات کو بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ حاصل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ میں وزن دار قوت کی حیثیت رکھنے والا ایران بہت سے جیو پولیٹیکل بحرانوں کے بیچ ہے۔ ان میں غزہ کی جنگ سے لے کر جوہری طاقت کا مسئلہ شامل ہے۔آج ہونے والے صدارتی انتخابات میں چار امیدوار ہیں۔ ان سب کی عمر 50 سے 70 برس کے درمیان ہے۔ امیدواروں کے نام یہ ہیں :1. مصطفی پور محمدی2. مسعود پزیشکیان3. سعید جلیلی4. محمد باقر قالیباف اگر ان میں سے کسی بھی امیدوار نے غالب اکثریت حاصل نہیں کی تو پھر پانچ جولائی کو انتخابات کا دوسرا مرحلہ منعقد ہو گا۔ سال 1979 میں ایران میں اسلامی جمہوریہ کے قیام کے بعد صرف ایک بار 2005 کے انتخابات میں یہ صورت حال پیش آئی تھی۔تہران میں حکام کو اندیشہ ہے کہ صدارتی انتخابات میں بھی گذشتہ پارلیمانی انتخابات والا منظر نامہ دوبارہ سامنے آ سکتا ہے جب ووٹروں کی شرکت کا تناسب ریکارڈ حد تک کم رہا تھا۔ صدارتی انتخاب میں زیادہ تر امیدوار سخت گیر قدامت پسند ہیں جب کہ صرف ایک امیدوار مسعود پزیشکیان اصلاح پسند ہیں۔ توقع ہے کہ آن ہونے والے انتخابات کے ابتدائی نتائج کل ہفتے کے روز آ جائیں گے جب کہ سرکاری طور پر نتائج کا اجرا اتوار تک ہو جائے گا۔ایران کے رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای نے آج ووٹنگ کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ صدارتی انتخابات میں ووٹ دیں۔ خامنہ ای نے قدامت پسندوں کی حمایت پر مبنی اپنے موقف کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بہترین امیدوار وہ ہے جو انقلاب اور نظام کے بنیادی اصولوں پر دل سے یقین رکھتا ہو .. اور ایران کو دیگر ممالک پر انحصار کے بغیر ترقی کرنے دے”۔ تاہم رہبر اعلیٰ نے زور دے کر کہا کہ ایران کو دنیا سے اپنے تعلقات منقطع نہیں کرنا چاہئیں۔ایران کے سابق اصلاح پسند صدر محمد خاتمی (1997-2005) کا کہنا ہے کہ مسعود پزیشکیان ایک ایمان دار ، انصاف پسند اور ذہین امیدوار ہیں لہذا انہیں ووٹ دیا جائے۔ سابق اعتدال پسند صدر حسن روحانی (2013-2021) کا بھی یہ ہی موقف ہے۔واضح رہے کہ حالیہ حکام کے حامی ووٹر دو قدامت پسند امیدواروں میں تقسیم ہو گئے ہیں۔ ان میں پہلے تو ایرانی پارلیمنٹ کے موجودہ اسپیکر محمد باقر قال?باف ہیں اور دوسرے سخت گیر شخصیت کے مالک سعید جلیلی ہیں جو مغرب کے ساتھ جوہری مذاکرات میں سابق نمائندے رہ چکے ہیں۔












