غزہ:ایک اسرائیلی ذریعے نے انکشاف کیا کہ اسرائیل اور حماس ایک فریم ورک معاہدے تک پہنچنے کےقریب پہنچ گئے ہیں جو غزہ میں قید اسرائیلی قیدیوں کی رہائی اور جنگ بندی کی راہ ہموار کرے گا۔
اسرائیلی عہدیدارکی طرف سے یہ انکشاف ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب دوسری جانب اسرائیلی خفیہ ادارے ’موساد‘ نےکہا ہےکہ وہ حماس کی طرف سے جنگ بندی کی تجاویز پرغور کررہا ہے۔
امریکی ’سی این این‘ نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق مذاکرات سے واقف اسرائیلی ذریعے نے کہا کہ اسرائیلی حکام کا خیال ہے کہ حماس کا حالیہ ردعمل دونوں فریقین کو جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے تفصیلی بات چیت کرنے کا موقع فراہم کرسکتا ہے۔
تاہم کسی معاہدے تک پہنچنے کی تاحال ضمانت نہیں دی جا سکتی کیونکہ نیتن یاہو کو مذاکرات کے اگلے مرحلے میں داخل ہونے کے لیے پہلے مذاکراتی ٹیم کو "گرین سگنل” دینا ہوگا۔امکان ہے کہ مذاکرات کی تفصیلات اور ممکنہ معاہدے تک پہنچنے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔
قبل ازیں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر کے ایک ذرائع نے بتایا تھا کہ حماس کی تجاویز پر غور کرنے کے لیے آج جمعرات کی شام کو سیکورٹی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوگا۔ذرائع نے مزید کہا کہ نیتن یاہو ملاقات سے قبل جنگ بندی کے مذاکرات کے لیے اپنی ٹیم کے ساتھ مشاورت کریں گے۔انہوں نےوضاحت کی کہ حماس نے معاہدے کے پہلے مرحلے میں جنگ بندی کی شرط کو ترک کر دیا۔کل بدھ کو اسرائیلی انٹیلی جنس سروس موساد نے اعلان کیا کہ اسرائیل کو حماس کی طرف سے اس تجویز کا جواب موصول ہوا ہے جس میں غزہ کی پٹی میں یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ بندی کے معاہدے کی تجاویز شامل ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ مصر، قطر اور امریکہ سمیت ثالث کئی مہینوں سے جنگ بندی تک پہنچنے اور غزہ میں قید کیے گئے بقیہ 120 اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں مگر تا حال ان کی کوششیں کاگر ثابت نہیں ہوئی ہیں۔ جنگ بندی کے حوالے سے حماس اوراسرائیل کے مطالبات میں واضح تضاد موجو ہے اور خلیج کو ختم کرنےکے لیے ثالث ملکوں کی مساعی جاری ہیں۔












