یوکرائن:امریکہ کی زیر قیادت مغربی ممالک کے فوجی اتحاد نے ‘نیٹو نے ایک بار پھر یوکرین اور روس کی جنگ کی طرف اپنی توجہ مبذول کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ نیٹو اتحاد پلیٹ فارم سے یوکرین کے لیے ایف 16 طیاروں کی فراہمی شروع کر دی گئی ہے۔ یہ انکشاف امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے واشنگٹن میں نیٹو کی 75 ویں سالانہ کانفرنس کے موقع پر کیا ہے۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے پچھلے سال ماہ اگست میں یوکرین کے روس سے بہتر دفاع کے لیے یہ مثبت اشارہ دیا تھا کہ یہ طیارے یوکرین کو دیے جائیں گے، تاہم آڑے ایک چیز یہ بھی آرہی تھی کہ یوکرین کی ایئر فورس ایف سولہ طیاروں کو اڑانے کی مہارت کتنی دیر میں حاصل کر سکے گی۔ اب بلنکن کی طرف سے طیارے فراہمی کے انکشاف میں اس مسئلے کا حل کیسے کیا گیا کوئی ذکر نہیں کیا گیا ہے۔انٹونی بلنکن نے اپنی تقریر میں اعلان کیا ہے کہ اس سال موسم گرما کے دوران ایف سولہ طیارے یوکرین کی فضاؤں میں اڑ رہے ہوں گے اور روسی جارحیت کے خلاف یوکرین کے دفاع میں مصروف ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا ‘ان طیاروں کی یوکرین کے لیے فراہمی کو ولادی میر پیوٹن کو اپنے لیے ایک واضح پیغام سمجھنا چاہیے۔
وائٹ ہاؤس سے اس سلسلے میں جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے ‘ڈنمارک اور ہالینڈ کی طرف سے ایف سولہ طیارے آ رہے ہیں۔ نیز ناروے، ڈنمارک اور ہالینڈ نے مزید طیارے فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔’ یوکرین ان ایف سولہ طیاروں کے لیے ایک عرصے سے منتظر تھا، تاکہ روس سے اپنا دفاع کر سکے۔امریکی وزیر خارجہ امریکہ نے ایک بار پھر روس کا ذکر رکتے ہوئے کہا ‘ولادیمیر پوتین کے ذہن کو اس حقیقت پر مرکوز کرنے کے لیے ہے کہ وہ یوکرین سے آگے نہیں بڑھیں گے۔ نہ وہ ہم سے آگے بڑھیں گے۔ بصورت دیگر وہ اپنی جارحیت کی پالیسی پر قائم رہے تو روس اور اس کے مفادات کے لیے نقصان زیادہ گہرا ہو جائے گا۔”اعلیٰ امریکی سفارت کار نے مزید کہا کہ ‘امن کے لیے سب سے تیز راستہ مضبوط یوکرین کا تحفظ ہے۔












