نئی دہلی،پریس ریلیز،ہمارا سماج:اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (یو ڈی او) دہلی اسٹیٹ کی ایک اہم میٹنگ ’بچوں کا گھر‘ دریا گنج، نئی دہلی میں ادارہ کے چیئرمین تیج لعل بھارتی کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ ممتاز گاندھی وادی رہنما اور حکیم اجمل خاں کے شیدائی تیج لعل بھارتی نے انتہائی رنج کے ساتھ مسلمانوں کی غفلت پر اظہار افسوس کیا۔ انہوں نے کہا کہ 90 سال کی عمر میں گزشتہ 33 سال سے میں بچوں کے گھر کی خدمت انجام دے رہا ہوں۔ لیکن افسوس ہے کہ اس تاریخی ادارہ کے ممبران کی تعداد بہت کم رہ گئی ہے اور اس میں واقع اردو میڈیم اسکول کا وجود بھی خطرہ میں پڑ گیا ہے۔ البتہ یہ امر میرے لیے باعث فخر ہے کہ میں ایک معتبر مسلم ادارہ کا چیئرمین ہوں۔ آج کے ماحول میں ہندوئوں کے لیے بھی سوچنے کا مقام ہے کہ مسلمانوں نے مجھے عزت کے ساتھ اپنے ادارہ کا سربراہ بنا رکھا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ 133 سال میں پہلی بار منتظمہ کمیٹی کا چیئرمین غیرمسلم تیج لعل بھارتی گاندھی وادی بنائے گئے ہیں۔ یہ ملک کے مسلمانوں کی فراخ دلی اور مذہبی رواداری کا نتیجہ ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ بچوں کے گھر کی طرف دھیان دیا جائے۔ واضح ہو کہ بچوں کا گھر ایک یتیم خانہ ہے جو مسلم یتیم بچے و بچیوں کے لیے 1891 میں مسیح الملک حکیم اجمل خان صاحب نے بنوایا تھا، تب سے یعنی 133 سال سے یہ ادارہ کھانا، پینا، رہنا، تعلیم اور دوا وغیرہ کے ساتھ ضروریات زندگی پوری کرتا ہے۔ ہزاروں لاکھوں بچے یہاں سے پڑھ کر زندگی میں کامیاب ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں۔ اس موقع پر اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے قومی صدر ڈاکٹر سیّد احمد خاں نے کہا کہ ملک کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لیے مہاتما گاندھی اور حکیم اجمل خاں کی راہ پر چلنا لازمی ہے۔ انہوں نے تیج لعل بھارتی اور ایڈوکیٹ مسرور صدیقی کا شکریہ ادا کیا کہ یہ لوگ بچوں کا گھر آج کے نامساعد حالات میں چلا رہے ہیں، یہاں موجود اردو میڈیم اسکول کی بقا اور ترقی کے لیے ہمیں آگے آنا چاہیے۔ میٹنگ میں تیج لعل بھارتی صاحب کی تجویز کو اتفاق رائے سے منظور کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر ممبرسازی کی مہم چلائے جانے کا فیصلہ کیا گیا۔ میٹنگ کے اہم شرکاء میں تیج لعل بھارتی اور ایڈوکیٹ مسرور صدیقی کے علاوہ ڈاکٹر شکیل احمد، ڈاکٹر اطہر محمود، ڈاکٹر مرزا آصف بیگ، ایڈوکیٹ شبی قاضی، ڈاکٹر فہیم ملک، حکیم آفتاب عالم اور محمد عمران قنوجی وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔












