نیویارک (یواین آئی) یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہنس گرنڈ برگ نے سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ بحیرہ احمر اور اس کے آس پاس کی آبی گذرگاہوں میں حالیہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بین الاقوامی جہاز رانی کو لاحق خطرہ بڑھ رہا ہے۔العربیہ کے مطابق گرنڈبرگ نے مزید کہا کہ”میں بحیرہ احمر اور اس کے آس پاس کی آبی گذرگاہوں میں بین الاقوامی جہاز رانی کو مسلسل نشانہ بنائے جانے کے بارے میں گہری تشویش میں مبتلا ہوں۔ حالیہ پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے خطرہ دائرہ کار اور درستگی میں بڑھ رہا ہے”۔
انہوں نےمزید کہا کہ اسرائیل پر حوثیوں کے حملے اور 20 جولائی کو یمنی بندرگاہ الحدیدہ اور اس کی تیل اور بجلی کی تنصیبات پر اسرائیل کے حملے تشدد کی ایک "نئی اور خطرناک سطح” کی نمائندگی کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ تجارتی بحری جہاز ڈوب گئے اور دیگر کو نقصان پہنچا جس کی وجہ سے تجارت میں خلل پڑا اور شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حوثی اب بھی گلیکسی لیڈر کارگو جہاز کے عملے کو حراست میں لیے ہوئے ہیں۔ اس جہاز کو انہوں نے نومبر میں اغوا کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ "یہ تشویشناک ہے کہ کشیدگی کو روکنے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے، بحران کو حل کرنے کی بات نہیں ہو رہی ہے”۔












