دیوبند، یکم اگست،سماج نیوز سروس: دیوبند کے محلہ بڑضیاء الحق پر گزشتہ روز محلہ میں واقع ایک بیسمنٹ میں برسات کا پانی جمع ہوجانے اور اس میں کرنٹ پھیل جانے کے نتیجہ میں محلہ کے ہی دو کم عمر بچوں کی دردناک موت ہوجانے کا معاملہ جمعرات کے روز اترپردیش اسمبلی میں اٹھایا گیا۔ سماج وادی پارٹی کے ایم ایل سی نے اس پورے حادثہ کو پیش کرتے ہوئے متأثرہ خاندان کو مالی مدد دیئے جانے اور قصور وار لوگوں کے خلاف کارروائی کئے جانے کا مطالبہ کیا ۔ سماج وادی پارٹی کے ایم ایل سی شاہ نواز خان نے ضابطہ 115کے تحت ودھان پریشد کے سامنے کرنٹ کی زد میں آکر ہونے والی دو نوجوانوں کی موت کا معاملہ اٹھایا اور حکومت سے اپیل کی کہ وہ سنجیدگی کے ساتھ اس پورے حادثہ کی جانچ کرائے اورمتأثرہ خاندان کے لئے مالی مدد کا اعلان کرے۔ حکومت نے ایم ایل سی کے مطالبہ کو منظور کرتے ہوئے سہارنپور کے ڈی ایم سے مذکورہ پورے معاملہ کی رپورٹ طلب کی ہے ۔ وہیں دوسری جانب دیوبند کے اسمبلی حلقہ کی سابق ایم ایل اے ششی بالا پنڈیر نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ محلہ بڑضیاء الحق پہنچ کر فوت ہوجانے والے بچوں کے خاندان سے ملاقات کرکے حادثہ پر اظہار افسوس کرتے ہوئے حوصلہ سے کام لینے کو کہا اور صوبائی وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو ایک تحرر بھیج کر متأثرہ خاندان کے لئے مالی مدد دیئے جانے کا مطالبہ کیا۔ اس دوران ششی بالا پنڈیر کے ساتھ جے پرکاش پال ، راجندر رانا، کھیم کرن کیشپ اور اسلام قریشی وغیرہ موجود رہے۔ وہیں دوسری جانب کرنٹ کی زد میں آکر فوت ہونے والے دونوں بھائیوں سفیان اور حذیفہ کی لاشیں پوسٹ مارٹم کے بعد تقریباً 12بجے دیوبند لائی گئیں جس کے بعد ایک مرتبہ پھر نوشاد قریشی کا گھر ماتم کدہ بن گیا۔ بعد ازاں دیر رات دو بجے دونوں بھائیوں کی تدفین ویلکم کالونی کے قبرستان میں نہایت غمزدہ ماحول میں عمل میں آئی ، جس میں محلے اور شہر کے سیکڑوں لوگوں نے شرکت کی۔ ایک ساتھ ہونے والی دو موتوں کی وجہ سے خاندان کے علاوہ پورے محلہ کا ماحول غمگین ہے۔












