نئی دہلی (یو این آئی) لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے آج پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں جاپان کے ایوان نمائندگان کے اسپیکر نوکاگا فوکوشیرو کے ساتھ ملاقات کی۔ جاپانی پارلیمانی وفد ہندوستان کے پانچ روزہ دورے پر ہے ۔ لوک سبھا اسپیکر نے جاپانی پارلیمانی وفد کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر مسٹر برلا نے خواتین کو بااختیار بنانے کے تئیں ہندوستانی پارلیمنٹ کے عزم کا تذکرہ کرتے ہوئے مسٹر فوکوشیرو کو بتایا کہ نئے پارلیمنٹ ہاؤس کے پہلے اجلاس میں ناری شکتی وندن ایکٹ سمیت کئی اہم بل منظور کیے گئے تھے ۔ بجٹ سیشن کو سب سے اہم سیشن بتاتے ہوئے مسٹر برلا نے ہندوستان کی بڑھتی ہوئی اقتصادی پیش رفت کا ذکر کیا اور بتایا کہ ہندوستان کس طرح ہر میدان میں ترقی کر رہا ہے ۔ ہندوستان اور جاپان کے درمیان قدیم اور گہرے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے لوک سبھا اسپیکر نے کہا کہ دونوں تہذیبوں میں بدھ مت کی مشترکہ وراثت ہے جو دونوں ملکوں کے شہریوں کو ایک دوسرے سے باندھتی ہے ۔ ان ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کی بنیاد بتاتے ہوئے مسٹر برلا نے ہر سال بڑی تعداد میں سیاحوں اور یاتریوں کے جاپان سے بدھ مت سے متعلق مقامات کا دورہ کرنے پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ اس سے یہاں کے شہریوں کے درمیان باہمی مفاہمت پیدا ہوگی۔ ہندوستان اور جاپان کی مشترکہ جمہوری اقدار کا ذکر کرتے ہوئے لوک سبھا اسپیکر نے جاپانی وفد کو بتایا کہ اس سال ہونے والے لوک سبھا انتخابات میں تقریباً 650 ملین لوگوں نے حصہ لیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان میں فی پارلیمانی حلقے میں اوسطاً 20 لاکھ سے زیادہ ووٹرز ہیں۔ مسٹر برلا نے کہا کہ ہندوستان کا انتخابی عمل الیکشن کمیشن مکمل کراتا ہے جو خود ایک آئینی ادارہ ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کے پاس صاف، آزادانہ ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کرانے کا ریکارڈ موجود ہے ۔ ملک کے طویل جمہوری سفر کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر برلا نے کہا کہ 1947 میں آزادی کے بعد سے ہندوستانی عوام نے جمہوریت کے ذریعے اپنے ملک کی ترقی کی ہے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس عرصے میں ملک میں بڑے پیمانے پر سماجی و اقتصادی تبدیلیاں آئی ہیں۔اس بات پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے ، مسٹر برلا نے کہا کہ ملک کی ترقی کے سفر میں بہت سے چیلنجوں کو ملک کے عوامی نمائندوں نے معاہدے ، اختلاف رائے اور بات چیت کے ذریعے حل کیا ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں مسلسل تیسری بار حکومت کی تشکیل کا ذکر کرتے ہوئے لوک سبھا کے اسپیکر نے کہا کہ آج ہندوستان کی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں مضبوط اور شفاف حکومت کی وجہ سے معاشی سرمایہ کاری کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ ریاستوں میں بھی سرمایہ کاری کے کافی مواقع ہیں۔ اس بات پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے مسٹر برلا نے کہا کہ کئی جاپانی کمپنیاں ہندوستان میں کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں باہمی تعاون میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ جاپان اور ہندوستان کی پارلیمانوں کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینے پر زور دیتے ہوئے لوک سبھا اسپیکر نے کہا کہ دونوں ملک پارلیمانی سفارت کاری کے ذریعے اپنے شہریوں کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں پارلیمنٹس اپنے بہترین پارلیمانی طریقوں، اختراعات، اچھی روایات اور اپنی پارلیمنٹ کی کامیابیوں کو شیئر کر سکتی ہیں جس سے دونوں پارلیمانوں کے درمیان باہمی مفاہمت بڑھے گی اور تعاون کے نئے پہلوؤں کی راہ ہموار ہوگی۔ اس تناظر میں مسٹر برلا نے تجویز پیش کی کہ دونوں ممالک کے پارلیمانی وفود کو ایک دوسرے کے ممالک کا باقاعدہ دورہ کرنا چاہیے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پارلیمانی دوستی گروپوں کو مختلف موضوعات پر باقاعدگی سے بات چیت کرنی چاہیے تاکہ ہم ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کر سکیں۔ پارلیمنٹ میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے زیادہ سے زیادہ استعمال کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر برلا نے کہا کہ ڈیجیٹل انقلاب کی وجہ سے ہندوستان میں اس سمت میں بڑی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔ہندوستان کے پارلیمانی ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ پرائڈ کا حوالہ دیتے ہوئے ، لوک سبھا کے اسپیکر نے کہا کہ 100 سے زیادہ ممالک کے شرکاء پرائڈ کے زیر اہتمام تربیت اور صلاحیت سازی کے لیے آتے ہیں۔












