دیوبند،سماج نیوز سروس: پانچ یوم قبل محلہ بڑضیاء الحق کے دو حقیقی بھائیوں کی کرنٹ کی زد میں آکر موت ہوجانے کے معاملہ میں ابھی تک ملزمان کی گرفتاری نہ ہونے سے ناراض متأثرہ خاندان کے افراد گزشتہ روز سے محلہ میں ہی بیسمنٹ کے سامنے دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں۔بچوں کی موت کے غم سے نڈھال ماں نے انتظامیہ کو انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ملزمین کو گرفتار نہ کیا گیا تو وہ خود کشی کرنے پر مجبور ہوجائے گی۔ واضح ہو کہ 31جولائی کو دوپہر کے وقت محلہ بڑ ضیاء الحق کے باشندہ نوشاد قریشی کے دو بیٹے حذیفہ اور سفیان گھر کے سامنے واقع بیسمنٹ میں کبوتر پکڑنے کے لئے اتر گئے ، لیکن وہاں لگے سب مرسبل میں کرنٹ آجانے کی وجہ سے دونوں بھائیوں کی کرنٹ کی زد میں آکر دردناک موت ہوگئی تھی ۔ اس معامہ میں نوشاد قریشی کی تحریر کی بنیاد پر پولیس نے مذکورہ بیسمنٹ کے مالکان وقار علی ، سعود علی، اور ذوالفقار کے خلاف رپورٹ درج کی تھی، لیکن پانچ دن گزرجانے کے بعد بھی ملزمان کی گرفتاری نہ ہونے سے ناراض متأثرہ اہل خانہ کے ساتھ سیکڑوں مرد وخواتین محلہ بڑ ضیاء الحق پر دھرنے پر بیٹھ گئے ہیں ۔ نوشاد قریشی نے اپنی ناراضگی اوردکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اتنا بڑا حادثہ ہونے کو پانچ دنوں کا عرصہ بیت جانے کے بعد بھی پولیس نے ملزمان کو گرفتار نہیں کیا ہے۔ وہیں دوسری جانب فوت ہوجانے والے بچوں حذیفہ اور سفیان کی والدہ نے ملزمان کی گرفتاری نہ ہونے پر خودکشی کرلینے کی وارننگ دی ہے۔ اس احتجاج اور دھرنے میں اے آئی ایم آئی ایم کے لیڈر کلیم معاذ، سماج وادی پارٹی کے لیڈر کارتکیہ رانا سمیت افضال قریشی، ریحان قریشی، افضل قریشی، میونسپل رکن گلفام انصاری اور ندیم قریشی کے علاوہ بڑی تعداد میں مرد وخواتین موجود رہیں۔












