دیوبند،سماج نیوز سروس:دیوبند سول کورٹ میں وکیلوں کے ساتھ ہونے والی مارپیٹ سے وکیل ابھی تک سخت ناراض ہیں اور ان کا غصہ کسی طرح کم نہیں ہورہاہے ۔ منگل کے روز مذکورہ واردات کے چوتھے دن بھی وکیل ہڑتال پر رہے اور سول کورٹ کے احاطہ میں احتجاج کرتے ہوئے حملہ آوروں کے خلاف سخت کارروائی کئے جانے کا مطالبہ کیا۔ تفصیل کے مطابق منگل کے روز دیوبند کچہری کے احاطہ میں وکیلوں نے اکٹھا ہوکر پولیس انتظامیہ کے خلاف زبردست نعرے بازی کرتے ہوئے احتجاج کیا۔ انہوں نے کہا کہ وکیلوں پر حملہ کرنے والے ملزمان کے خلاف دفعہ 151کے تحت کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے چھوڑ دیا ہے جب کہ ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہونی چاہئے تھی۔ وکیلوں کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ چار دنوں سے ہڑتال پر ہیں لیکن اس کے باوجود پولیس کے ایک بھی افسر نے نہ تو ان کی بات سنی ہے اور نہ ہی ملزمان کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی کی ہے۔ آدیش تیاگی ایڈوکیٹ نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ سہارنپور پارلیمانی حلقہ کے ایم پی عمران مسعود ملزمان کو بچانے کا کام کررہے ہیں۔ سول بار ایسوسی ایشن کے صدر نریش کمار ایڈوکیٹ اور سریندر پال سنگھ ایڈوکیٹ نے کہا کہ دیوبند میں وکیلوں کے ساتھ مارپیٹ ہونا نہایت بدقسمتی کی بات ہے۔ اس موقع پر دیش دیپک تیاگی ایڈوکیٹ، راج ویر شرما ایڈوکیٹ، دشینت تیاگی ایڈوکیٹ ، محمد ارشاد ایڈوکیٹ، ستیش کمار ایڈوکیٹ، نیرج کمار ایڈوکیٹ اور رویندر پنڈیر ایڈوکیٹ سمیت بڑی تعداد میں وکیل موجود رہے۔












