سعودی عرب :سعودی عرب کے نائب وزیر خارجہ انجینئر ولید الخریجی کا کہنا ہے "گذشتہ ہفتے تہران کے دورے کے دوران فلسطین کے سابق وزیر اعظم اسماعیل ہنیہ کا قتل اسلامی جمہوریہ ایران کی خود مختاری، اس کی علاقائی و قومی سلامتی، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی صریح خلاف ورزی ہے اور یہ علاقائی امن و امان کے لیے ایک دھمکی بھی ہے”۔
الخریجی نے یہ بات جدہ میں اسلامی تعاون تنظیم کی مجلس عاملہ کے غیر معمولی اجلاس میں کہی۔ وہ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کی نمائندگی کر رہے تھے۔
نائب وزیر خارجہ نے اپنی تقریر میں مزید کہا کہ ان کا ملک مسئلہ فلسطین کے حوالے سے دو ٹوک موقف رکھتا ہے۔ مملکت قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے شہریوں پر حملوں کی مذمت کرتی ہے۔ اسی طرح دیگر ممالک کی خود مختاری کی خلاف ورزی یا کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کو مسترد کرتی ہے۔الخریجی نے قابض اسرائیلی فوج کی بڑھتی ہوئی خلاف ورزیوں پر سعودی عرب کی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان خلاف ورزیوں کے نتیجے میں غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے میں شہریوں کی بہت بڑی تعداد شہید اور زخمی ہو گئی ہے۔ غذا، دوا اور ایندھن کی شدید قلت کا سامنا ہے اور مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے سبب صحت کے شعبے پر بہت زیادہ بوجھ آ گیا ہے۔ اسی طرح بے گھر شہریوں کی بڑی تعداد پناہ کی تلاش میں ہے۔سعودی نائب وزیر خارجہ نے ایک بار پھر مملکت کا یہ مطالبہ دہرایا کہ عالمی برادری کو فعال طور پر حرکت میں آنے کی ضرورت ہے تا کہ قابض اسرائیلی فوج کو ان جرائم اور خلاف ورزیوں کا مکمل ذمے دار ٹھہرایا جا سکے اور برادر فلسطینی عوام کے خلاف حملوں پر روک لگائی جا سکے۔ الخریجی کے مطابق سعودی عرب فلسطینی اراضی پر اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور بین الاقوامی قرار دادوں اور عرب امن منصوبے کی روشنی میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے جاری تمام کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔
دریں اثناایران کی طرف سے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ وہ اسرائیلی حملے کا بدلہ ضرور لے گا۔ اس سلسلے میں بات کرتے ہوئے ایران کے قائم مقام وزیر خارجہ کا کہنا تھا ‘ ایران کے پاس کوئی اور آپشن ہی باقی نہیں رہے ، سوائے اس کے اسرائیل کو جواب دے۔ایرانی وزیر خارجہ علی باقری نے یہ بات ‘ او آئی سی ‘ کے غیر معمولی اجلاس میں اس معاملے پر بحث کے دوران کہی ہے۔ علی باقری کا کہنا تھا کہ اقوام محدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے اس حوالے کوئی نوٹس ہی نہیں لیا جا سکا کہ اسرائیل نے ایرانی دارااحکومت میں جارحیت کا ارتکاب کیا ہے۔واضح رہے او آئی سی 57 مسلمان ملکوں کی مشترکہ فورم ہے۔ ان 57 ملکوں میں تیل اور گیس کی دولت سے مالا مال عرب کے علاوہ پاکستان ایسا جوہری ملک بھی اس فورم کا رکن ہے۔او آئی سی کا رواں اجلاس ایرانی درخواست پر جدہ میں بلایا گیا تھا۔ تاکہ تہران میں حماس سربراہ اسماعیل ھنیہ کے قتل سے پیدا ہونے والی صورت حال کا جائزہ لے سکے۔ اس حملے کی اسرائیل نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن عمومی طور پر ہر جگہ یہی احساس ہے کہ یہ کارروائی اسرائیل ہی کی ہے۔












