تل ابیب :اسرائیلی ایمبولینس سروس نے ایک قلعہ بند زیر زمین مرکز میں خون کا سامان ذخیرہ کر لیا ہے ۔ فیکٹریوں نے خطرناک مواد کو ٹھکانے لگا دیا ہے۔ میونسپل حکام پناہ گاہوں کا معائنہ کر رہے ہیں اور ایران اور اس کے پراکسیوں کے حملے کے خطرے کے پیش نظر پانی کی فراہمی کو یقینی بنا رہے ہیں۔ اسرائیل کئی مہینوں سے اپنے داخلی محاذ کو مضبوط کر رہا ہے اور اکتوبر میں غزہ میں جنگ کے آغاز کے بعد سے بہت سے اقدامات کر چکا ہے۔
تاہم گزشتہ 10روز میں تیاری کی رفتار میں بڑی تیزی آگئی ہے۔ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ قدرے محدود تنازع کے ایک جامع علاقائی جنگ میں تبدیل ہونے کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے فوج میں بھرتی ہونے والے نئے جوانوں کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران کہا ہے کہ میں جانتا ہوں کہ اسرائیل کے شہری چوکنا ہیں اور میں آپ سے کہتا ہوں کہ صبر کریں اور پرسکون رہیں۔
نیتن یاھو نے مزید کہا کہ ہم دفاع اور حملہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ہم اپنے دشمنوں پر حملہ کرتے ہیں اور اپنے دفاع کے لیے بھی پرعزم ہیں۔ اسرائیل کو اب کثیر محاذ کی جنگ کے خطرے کا سامنا ہے اسے غزہ سے حماس، لبنان سے حزب اللہ اور یمن سے حوثی گروپ کا خطرہ ہے۔ ان گروپوں کو ایران کی حمایت اور مالی مدد حاصل ہے۔
تہران میں حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ھنیہ کے قتل اور بیروت میں حزب اللہ کے فوجی کمانڈر فواد شکر کے قتل کا بدلہ لینے کے عزم کے بعد آنے والے دنوں میں ایران اور حزب اللہ کی جانب سے حملہ متوقع ہے۔
کئی مہینوں کی بے چینی، توقعات اور گھبراہٹ کے بعد اور اپریل میں سینکڑوں ڈرونز اور میزائلوں سے ایرانی حملے کے بعد اسرائیلی شہری بحران کی فضا کے عادی ہوگئے ہیں۔ اپریل کے ایران کے حملے کو اسرائیلی فضائی دفاع اور بین الاقوامی اتحادیوں نے مل کر نام بنا دیا تھا۔ جنگ کے آغاز میں حزب اللہ کے میزائلوں کی حدود میں شمالی علاقوں سے دسیوں ہزار لوگوں کو نکالا گیا تھا۔ بہت سے سرحدی علاقے اب بھوت شہر بن چکے ہیں۔
حزب اللہ کی میزائلوں کے ساتھ اسرائیل پر طویل مدتی بمباری اس کے اندر کے علاقوں اور حساس اہداف جیسے شمال میں ساحلی شہر حیفا تک پہنچ سکتی ہے۔ حیفا حزب اللہ کے میزائلوں کے لیے ایک آسان ہدف ہے۔ حیفا میں رمبم ہسپتال گزشتہ اکتوبر سے چوکس ہے۔ اور ہسپتال نے مریضوں کے علاج کے لیے تین منزلوں پر مشتمل زیر زمین قلعہ بند سہولیات تیار کرلی ہیں۔ ہسپتال کے ترجمان ڈیوڈ رتنر نے کہا کہ ہم انتظار کر رہے ہیں کہ کیا ہوتا ہے۔












