امریکہ:امریکی فوج نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ طیارہ بردار بحری جہاز ’یو ایس ایس‘ ابراہم لنکن اور اس کے ساتھ آنے والے ڈسٹرائر جہاز مشرق وسطیٰ میں ایسے وقت میں پہنچے ہیں جب وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے اس بحری اسٹرائیک گروپ کو خطے میں اپنی پیش قدمی تیز کرنے کا حکم دیا ہے۔خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق دوسرے طیارہ بردار بحر بیڑے کی آمد کے بعد عارضی طور پر مشرق وسطیٰ میں منتقل کیے گئے امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں کی تعداد دو ہو گئی ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب دوسری طرف ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی فوجی کمان سینٹ کام نے ایک بیان میں کہا کہ طیارہ بردار بحری جہاز USS ابراہم لنکن، F-35C اور F/A-18 بلاک 3 لڑاکا طیاروں سے لیس ہےجو اب سینٹ کام کے ذمہ داری کے علاقے میں داخل ہو گیا ہے۔اس نے مزید کہا کہ "لنکن تیسرے کیریئر اسٹرائیک گروپ کا پرچم بردار ہے، جس کے ساتھ ڈسٹرائر فلوٹیلا (ڈیسرون) 21 اور 9 واں کیریئر ونگ CVW ہیں”۔
خیال رہے کہ حال ہی میں امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگان) نے 11 اگست کو اعلان کیا تھا کہ وزیر دفاع آسٹن نے کیریئر لنکن کو مشرق وسطیٰ میں "اپنی نقل و حرکت کو تیز کرنے” کا حکم دیا تھا،جسے خطے میں ایک ماہ قبل بھیجنے کا فیصلہ کیاگیا تھا۔قابل ذکر ہے کہ اسرائیل کی جانب سے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے میں ایک فضائی حملے میں حزب اللہ کے رہ نما فواد شکر کی ہلاکت اور حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کےتہران میں قتل کے بعد سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی سطح بڑھ گئی ہے۔
حزب اللہ اور اس کے اتحادی ایران کی جانب سے گذشتہ جولائی کے آخر میں بیروت اور تہران کے جنوبی مضافات میں صرف چند گھنٹوں کے فاصلے پر ہونے والے دو ہائی پروفائل قتل کے واقعات کا جواب دینے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔












