یمن :یورپی یونین کے بحیرۂ احمر کے بحری مشن ایسپائڈس نے پیر کے روز ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ یونانی پرچم بردار بحری جہاز سونیون 23 اگست کو یمنی حوثیوں کے حملے کے بعد سے بدستور آگ کی لیپٹ میں ہے البتہ تیل کے اخراج کی کوئی واضح علامت نہیں ہے۔
مشن نے اتوار کے دن کی تصاویر شائع کیں جن میں جہاز کے بڑے عرشے سے آگ اور دھواں نکلتا نظر آتا تھا۔یمن کے گنجان آباد ترین علاقوں کو کنٹرول کرنے والے حوثیوں نے جمعرات کو کہا کہ انہوں نے بحیرۂ احمر میں سونیون آئل ٹینکر پر حملہ کیا۔ایسپائڈس نے کہا کہ جہاز کے بڑے عرشے پر کم از کم پانچ مقامات پر آگ دیکھی گئی۔ مزید برآں جہاز کے بالائی ڈھانچے کا ایک حصہ بھی آگ کی لپیٹ میں تھا۔یورپی خلائی ایجنسی کے کوپرنیکس سیٹلائٹ 2 سے لی گئی سیٹلائٹ تصویر میں سمندر میں اس جگہ دھواں نظر آیا جہاں سوونین کا آخری بار پتہ چلا تھا۔رائٹرز ایل ایس ای جی شپ ٹریکر سے دیکھے گئے ایم وی سونیون کے آخری مقام سے مطابقت رکھنے والی تصویر تلاش کرنے میں کامیاب رہا۔ایسپائڈس نے جمعرات کو کہا کہ 150,000 ٹن خام تیل لے جانے والے بحری جہاز ماحولیاتی خطرے کا سبب ہے۔












