فاروق تانترے
سرینگر،سماج نیوز سروس:دراندازی کی کوششو ں میں ملی ٹنٹوں کو پاکستان کی بھر پور حمایت ہے کا دعویٰ کرتے ہوئے جموں کشمیر پولیس سربراہ آر آر سوئن نے کہا کہ سرحد پار سے دہشت گرد جموں کشمیر میں درندازی کیلئے سرنگوں کا استعمال کررہے ہیں اور یہ پاکستان کی حمایت کے بغیر ممکن نہیںہے ۔تفصیلات کے مطابق جموں کشمیر پولیس سربراہ آر آر سوئن نے کہا کہ دہشت گرد پاکستان سے جموں و کشمیر میں دراندازی کیلئے سرنگ کا استعمال کر رہے ہیں اور کہا کہ پاکستانی فوج کی معلومات یا مدد کے بغیر سرنگ نہیں کھودی جا سکتی۔ایک قومی ہفتہ وار میگزین کو انٹرویو میں پولیس سربراہ آر آر سوئن نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ جموں کشمیر میں درندازی کرنے کیلئے ملی ٹنٹ سرنگوں کو استعمال کر تے ہیں ۔ پولیس چیف نے کہا کہ یہ سرگرمیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہ سکتیں کیونکہ اسے فعال بنانے کیلئے لاجسٹک سپورٹ اور افرادی قوت کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب دہشت گرد اسے استعمال کریں گے تو علاقے میں حرکت ہو گی اور یہ پاکستانی فریق کے علم میں لائے بغیر نہیں ہو سکتا۔ایک اور سوال کے جواب میں کہ کیا دہشت گردوں کا تعلق پاکستان کے خیبر پختونخواہ سے ہے اور وہ طالبان کے ساتھ تربیت یافتہ ہیں، سوئن نے کہا کہ دو خودکش حملہ آور جنہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ جموں سے کچھ دن پہلے دہشت گردی کی کوشش کی تھی، وہ غیر اردو اور غیر سندھی بولنے والے تھے اور تمام امکان میں پشتو بولتا تھا۔پولیس کے سربراہ نے کہا’’پاکستان میں ڈیورنڈ لائن کے اس طرف پشتو بولنے والوں کی بڑی آبادی ہے حالانکہ یہ افغانستان کے جنوبی اور مشرقی علاقوں میں غالب آبادی کی زبان ہے‘‘۔اس پر کہ آیا سیکورٹی ماحول اسمبلی انتخابات کے پرامن انعقاد کی اجازت دیتا ہے،سوئن نے کہا کہ وہ اس کیلئے پرعزم ہیں اور اسے ایک چیلنج کے طور پر نہیں دیکھتے۔انہوں نے مزید کہا’’ہم نے پارلیمانی انتخابات کے دوران ان چیلنجوں پر قابو پالیا اور نتیجہ انتہائی حوصلہ افزا رہا کیونکہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے پولنگ کے عمل میں حصہ لیا‘‘۔سوئن نے کہا کہ ولیج ڈیفنس گارڈز کی مدد کی جارہی ہے جبکہ سرحدی پولیس اسٹیشن قائم کیے جارہے ہیں۔ وی ڈی جیز کو نائٹ ویثن ڈیوائسز، بہتر آلات اور ٹیکنالوجی سے لیس کیا جا رہا ہے تاکہ روکاوٹ پیدا کی جا سکے۔












