ایران:ایرانی مسلح افواج کے چیف آف جنرل سٹاف محمد باقری نے کہا ہے کہ "مزاحمت کا محور انفرادی طور پر اور آزادانہ طور پر(اسرائیل کے خلاف) حرکت کرے گا اور اسرائیل سے انتقام لے گا‘‘۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے خون کا بدلہ لینے کا فیصلہ حتمی اور یقینی ہے”۔
علی باقری نے نئے ایرانی وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل عزیز ناصر زادہ کی عہدہ سنھبالنے کی تقریب سے خطاب میں کہا کہ ان کا ملک "دشمن کی طرف سے میڈیا کی اشتعال انگیزی کے جال میں نہیں پھنسے گا”۔جنرل باقری کہا کہ کہ ہنیہ کے قتل کے جواب میں جواب دینے کا فیصلہ ان کا ملک آزادانہ طور پر کرے گا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی’ارنا‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ بیانات وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی کے اس بیان کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں انہوں نے اسرائیل کے اندر موجود "اہم اور سٹریٹجک اہداف پر حزب اللہ کے حملوں کو موثر قرار دیا تھا‘۔
انہوں نے کہا کہ "اسرائیلی فوج اپنی جارحانہ صلاحیت اور موثر ڈیٹرنس فورس کھو چکی ہے۔ اب اسے اسٹریٹجک حملوں کے خلاف اپنا دفاع کرنے میں ناکامی کا سامنا”۔انہوں نے امریکہ پر اس کی اسرائیل کے لیے جامع حمایت جس نے حزب اللہ کے ردعمل کے وقت اور جگہ کا اندازہ لگانے کی صلاحیت کھو دی ہے” پر تنقید کی۔
واضح رہے کہ اسرائیلی فوج نے محض ایک فوجی کی ہلاکت اور دو کے زخمی ہونے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ شمال میں یا تل ابیب کے قریب کسی فوجی اڈے کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقجی نے کل شام اس بات کی تصدیق کی کہ ان کا ملک لامحالہ ایک درست اور سوچ سمجھ کر اسرائیل کو جواب دے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ایرانی ردعمل سے کشیدگی بڑھنے کا خوف نہیں ہے، لیکن وہ تہران کو اس کی کوئی پرواہ بھی نہیں کیونکہ وہ ہر طرح کی جنگ کے لیے تیار ہے۔












