تل ابیب :غزہ میں جنگ بندی کی کوششیں اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے حوالے سے کوئی مثبت پیش رفت سامنے نہیں آرہی۔ انہیں حالات میں غزہ میں زیر حراست اسرائیلی یرغمالیوں کے اہل خانہ اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے درمیان بات چیت لیک ہوگئی۔ اس لیک آڈیو نے واضح کردیا ہے کہ نیتن یاہو کو یرغمالیوں کے انجام کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اس لیک سے معلوم ہوتا ہے کہ نیتن یاہو کی توجہ یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے تک پہنچنے سے زیادہ ایران اور حزب اللہ سے مقابلہ کرنے پر مرکوز ہے۔ چینل 12 کی طرف سے اتوار کو نشر کی جانے والی آڈیو ریکارڈنگ میں نیتن یاہو نے یرغمالیوں کے اہل خانہ سے کہا کہ وہ ایران اور اس کے ایجنٹوں کے خلاف اسرائیل کا دفاع کرنے میں مصروف ہیں۔ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ میں کس چیز میں مصروف ہوں۔ میں اپنے ملک کی تباہی کو روکنے کے لیے کام کر رہا ہوں۔
وزیر اعظم نے لیک ہونے والی گفتگو میں صبر کا دامن ہاتھ سے کھو دیا اور جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے تک پہنچنے کی اہمیت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم صرف معاہدے کی بات کر رہے ہیں، اگر ہم معاہدہ کریں گے تو سب کچھ حل ہو جائے گا، ایران حملہ روک دے گا۔ یہ پاگل پن ہے۔ یہ ایک وہم ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران ہمیں تباہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، حزب اللہ ہمیں تباہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، اور ہم کہتے ہیں کہ ہم بھیڑ بکریوں کی طرح مذبح کی طرف نہیں جائیں گے۔
نیتن یاہو نے غزہ میں یرغمالیوں کے اہل خانہ کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ 7 اکتوبر کا حملہ ہولوکاسٹ کے مقابلے میں بہت چھوٹا تھا۔ انہوں نے آڈیو ریکارڈنگ میں کہا کہ اسرائیل 7 اکتوبر کو ہارا نہیں ہے۔ حملے کا نتیجہ ہولوکاسٹ کے نتائج کے مقابلے میں بہت چھوٹا تھا۔ انہوں نے کہا ہولوکاسٹ کے دوران ایک دن میں سات اکتوبر جیسے 4500 حملوں کے برابر کے حملے کیے گئےتھے۔
دوسری طرف ایک سابق یرغمالی جس کا بیٹا ابھی بھی غزہ میں قید ہے نے جواب دیا کہ اس کا مطلب ہے کہ میں اپنے بیٹے کو نہیں دیکھوں گا۔ ایک اور شخص نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ ہاں، بالکل یہی بات ہے جو وہ کہنا چاہتے ہیں۔ رہائی پانے والے یرغمال نے چیخ کر کہا کہ ابھی یہاں ایک آگ میں ہوں۔ میرا بیٹا وہاں ہے اور میں یہاں آگ میں ہوں۔ میں یہاں جینے سے زیادہ مرنا پسند کروں گا۔
یاد رہے گزشتہ 7 اکتوبر کو غزہ کی پٹی کے ارد گرد کی بستیوں پر کیے گئے حماس کے اچانک حملے میں 251 اسرائیلیوں کو یرغمال بنایا گیا تھا۔ نومبر کے آخر میں عارضی جنگ بندی کے دوران 105 قیدیوں کو رہا کردیا گیا۔ اس سے پہلے بھی چار یرغمالی رہا کئے گئے تھے۔ اسرائیل نے 7 یرغمالیوں کو بھی بازیاب بھی کرا لیا ہے۔ 30 یرغمالیوں کی لاشیں ملی ہیں جن میں تین ایسے ہیں جو غلطی سے اسرائیلی فوج کے ہاتھوں اپنے اغوا کاروں سے فرار ہونے کی کوشش میں مارے گئے تھے۔












