ڈھاکہ (ہ س)۔ ڈھاکہ میٹروپولیٹن مجسٹریٹ نورالہدیٰ چودھری نے حالیہ طلبا کی تحریک کے دوران بڈہ میں ایک نوجوان کو گولی مار کر ہلاک کرنے کے معاملے میں شیخ حسینہ کے سابق مشیر سلمان ایف رحمٰن اور سابق وزیر قانون انیس الحق کو آج صبح پولیس کوحراست میں لے کر مزید پانچ دن پوچھ گچھ کرنے کا وقت دیا ہے۔ ڈھاکہ ٹریبیون اخبار کے مطابق عدالت نے دونوں کو چوتھی بار پولیس ریمانڈ پر ایجنسی کے حوالے کر دیا ہے۔ آج ریمانڈ کی مدت ختم ہونے کے بعد پولیس دونوں کو عدالت لے گئی۔ مزید برآں، عدالت نے دارالحکومت کے روبیل قتل کیس میں سابق ایم ایل اے محمد صادق خان اور سابق سینئر فوجی افسر ضیاء الاحسن کو پانچ روزہ ریمانڈ پر بھیج دیا۔ تفتیشی ادارے نے سابق رکن اسمبلی انیس الحق اور نیشنل ٹیلی کام سرویلانس سینٹر کے سابق ڈائریکٹر جنرل ضیاء الاحسن کو بھی صبح سات بجے عدالت میں پیش کیا۔ پولیس نے ہر ایک کے 10 روزہ ریمانڈ کی استدعا کی۔ لیکن عدالت نے ریمانڈ کی سماعت کے دوران سب کو پولیس کی تحویل میں بھیج دیا۔ ریمانڈ میں سماعت کے دوران سابق رکن اسمبلی انیس الحق نے عدالت کو بتایا کہ سلمان اور انہوںنے (دونوں) کوٹہ اصلاحات کی تحریک کی حمایت کی تھی۔ "ہم بے قصور ہیں، واقعے سے لاعلم ہیں۔ ہم عدالت سے انصاف چاہتے ہیں۔‘‘ قابل ذکر ہے کہ پولیس نے ان دونوں کو 13 اگست کو گرفتار کیا تھا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ دونوں دارالحکومت کے صدرگھاٹ علاقے سے آبی گزرگاہوں کے ذریعے ملک سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔












