غزہ(ہ س)۔اسرائیلی فوج کے ریڈیو کے مطابق جمعے کی شام مغربی کنارے میں غوش عتصیون یہودی بستی میں ایک گاڑی کے دھماکے کے نتیجے میں دو اسرائیلی زخمی ہو گئے۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکا خیز مواد سے بھری اس گاڑی کو خود کش حملے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ اسرائیلی فوج نے حملہ آور کو ہلاک کر دیا جو موقع سے فرار ہو گیا تھا۔ادھر اسرائیلی نشریاتی ادارے نے بتایا ہے کہ یہودی بستی کرمی تسور میں گاڑی سے روندنے اور فائرنگ کے واقعے میں دو دیگر اسرائیلی زخمی ہو گئے۔واضح رہے کہ مغربی کنارے کے شہر جنین میں اسرائیلی فوج کا آپریشن جاری ہے۔ اس دوران میں جنین کے جنوب میں واقع ٹاون الزبابدہ میں اسرائیلی فوج کے ڈرون طیارے نے ایک گاڑی پر بم باری کی۔ اسرائیلی فوج نے ایمبولینس کی گاڑیوں کو بم باری کے مقام تک پہنچنے سے روک دیا۔علاوہ ازیں اسرائیلی فوج نے ٹاؤن میں ایک گھر کا محاصرہ کر کرے اس کی سمت فائرنگ کی۔اسرائیلی فوج نے جنین پناہ گزین کیمپ میں مسلسل تیسرے روز شہری اور بنیادی خدمات کے ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کی کارروائیاں جاری رکھیں۔ اس میں فوجیوں کی بڑی تعداد اور بلڈوزروں نے بھی شرکت کی۔دوسری جانب اسرائیلی فوج کے ترجمان افخائی ادرعی نے جمعے کے روز جاری ایک بیان میں بتایا کہ اسرائیلی فوج نے جنین میں ایک سیل چلانے والے حماس کے نیٹ ورک کے ایک کمانڈر وسام حازم کو ہلاک کر دیا۔ فوج کے مطابق وسام مغربی کنارے میں فائرنگ اور دھماکوں کی کارروائیوں میں ملوث تھا۔ادھر فلسطینی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ بدھ کے روز مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کا آپریشن شروع ہونے کے بعد سے اب تک 16 فلسطینی ہلاک کیے جا چکے ہیں جن میں سے تین کی لاشیں اسرائیلی فوج کے پاس ہیں۔ علاوہ ازیں اب تک 45 فلسطینیوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔جنین، طوباس اور طولکرم میں اسرائیلی فوج کا آپریشن جاری ہے۔ یہ گذشتہ 22 برسوں میں مغربی کنارے میں اسرائیل کا سب سے وسیع فوجی آپریشن ہے۔واضح رہے کہ گذشتہ برس 7 اکتوبر کو حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ چھڑنے کے بعد مغربی کنارے میں اب تک اسرائیلی فوج اور آباد کاروں کی فائرنگ سے کم از کم 640 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔












