واشنگٹن (یواین آئی)مغربی انتباہات کے باوجود روس یوکرین تنازع میں ایرانی مداخلت گہری ہوتی جا رہی ہے اور یورپی حکام کو توقع ہے کہ ایران مستقبل قریب میں روس کو بیلسٹک میزائل فراہم کرے گا اور یہ اقدام یوکرین کے اتحادیوں کی جانب سے تیزی سے ردعمل کا باعث بن سکتا ہے۔
باخبر ذرائع نے امریکی ویب سائٹ ’’ بلومبرگ ‘‘ کو بتایا ہے کہ یورپی حکام کو توقع ہے کہ ایران مستقبل قریب میں روس کو بیلسٹک میزائل فراہم کرے گا ۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے افراد نے کہا کہ ایران نے روس کی یوکرین کے خلاف اڑھائی سالہ جنگ کے دوران ماسکو کو سینکڑوں ڈرون فراہم کیے ہیں لیکن بیلسٹک میزائلوں کی ممکنہ منتقلی تنازع میں تشویشناک پیش رفت ثابت ہوسکتی ہے۔ ذرائع نے ترسیل کی قسم اور دائرہ کار یا ٹائم لائن کے بارے میں تخمینہ فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔ تاہم ایک اہلکار نے کہا ہے کہ ترسیل دنوں میں شروع ہو سکتی ہے۔
امریکہ اور نیٹو کے دیگر اتحادیوں نے تہران کو ایسے اقدام کے خلاف خبردار کیا ہے اور وہ ایسا ہونے سے روکنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یوکرین کی افواج مشرقی ڈونیٹسک کے علاقے میں روسی افواج کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔ اس کے شہروں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو مسلسل بمباری کا سامنا ہے۔ جنگ کا تیسرا موسم سرما قریب آ رہا ہے۔ پیر کو کیف کو بیلسٹک میزائلوں، پروں والے میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا۔












