انڈونیشیا:پوپ فرانسس منگل کے روزآبادی کے اعتبار سے مسلمانوں کے بڑے ملک انڈونیشیا پہنچ گئے ہیں۔ پوپ فرانسس کا یہ دورہ ایشیا پیسفک ملکوں کے دورے کی ایک کڑی ہے۔ 87 سالہ پوپ کا یہ طویل دورہ ہو گا جس کے دوران وہ چار مختلف ملکوں میں جائیں گے۔وہ اپنے اس لمبے دورے کے سلسلے میں مشرقی تیمور بھی جائیں گے جسے کچھ عرصہ قبل انڈونیشا کو کاٹ کر ایک مسیحی ملک کے طور پر قائم کیا گیا ہے۔ پوپ فرانسس ایک ارب 30 کروڑ کیتھولک مسیحیوں کے سب سے بڑے مذہبی پیشوا ہیں۔بتایا گیا ہے کہ ان کے دورے کی فہرست میں انڈونیشیا کے علاوہ پاپو ، سنگاپور اور مشرقی تیمور شامل ہیں۔ انہیں ایک مذہبی پیشوا ہونے کے ناطے دنیا کے کسی ملک میں بھی جانے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ مذہبی اور سیکولر دونوں قسم کے ملک ان کے لیے مسیحی پیشوا ہونے کی وجہ سے کھلا دل رکھتے ہیں۔ اس ناطے وہ دنیا بھر کے مسیحیوں کے مسائل کے لیے ایک جاندار آواز ہیں۔
ان کے ویٹی کن سٹی کی سفارتی نمائندگی کا بھی اہتمام ہے۔ پوپ کو اس ناطے ایک سربراہ حکومت کے طرح پروٹوکول دیا جاتا ہے۔ اس طرح وہ یورپ ، امریکہ اور ایشیا و افریقہ کے سیکولر مسیحیوں کو بھی ایک غیر علانیہ مذہبی رشتے میں پروئے ہوئے ہیں۔
پوپ فرانسس کا یہ دورہ 12 دنوں پر محیط ہو گا۔ پچھلے دنوں ان کی صحت قدرے کمزور رہی ہے مگر اب وہ بہتر صحت کے ساتھ ہیں۔ وہ لمبے ہوائی سفر کے بعد ویٹیکن سے انڈونیشیا پہنچیں گے تو منگل کے روز آرام کریں گے۔ ان کی انڈونیشیا کے صدر سے ملاقات کریں گے۔
انڈونیشا میں کیتھو لک مسیحی آبادی اس وقت تین فیصد سے بھی کم ہے۔ انڈونیشیا کی 87 فیسد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔تاہم مسیحیوں کو انڈونیشا میں موجود چھ مذاہب اسلام ، بدھ ازم، ہندو ازم ، کنفیوشس ازم اور پروٹسٹنٹ ازم میں شامل کیا گیا ہے۔












