دبئی :ایک ہفتہ سے زیادہ عرصہ قبل مغربی کنارے میں اسرائیلی دراندازی اور گرفتاریوں کی روشنی میں اقوام متحدہ نے ان خلاف ورزیوں کی مذمت کی تھی۔ پیر کے روز اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کے بارے میں کارروائی کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ غزہ کی پٹی میں تقریباً ایک سال سے جاری جنگ کو ختم کرنا اولین ترجیح ہے۔
وولکر ترک نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے ستاونویں اجلاس کے افتتاح کے موقع پر اپنی تقریر میں مزید کہا کہ ریاستوں کو قانون کی صریح بے توقیری کو قبول نہیں کرنا چاہیے۔ بین الاقوامی قانون، بشمول سلامتی کونسل کی طرف سے جاری کردہ پابند قراردادیں اور بین الاقوامی عدالت انصاف کے احکامات کی خلاف ورزی کی جاری ہے۔
انہوں نے اپنی تقریر میں اقوام متحدہ کی عدالت برائے انصاف کی طرف سے گزشتہ جولائی میں جاری ایک رائے کا بھی حوالہ دیا جس میں عدالت نے اسرائیل کے قبضے کو غیر قانونی قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس صورت حال کو جامع انداز میں حل کیا جانا چاہیے۔
یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب اسرائیلی فورسز نے تقریباً 10 روز قبل مغربی کنارے میں ایک بڑا فوجی آپریشن شروع کیا تھا جس کے دوران اسرائیلی فورسز نے جنین اور طولکرم سمیت کئی شہروں پر دھاوا بول دیا۔ ان کارروائیوں میں 30 فلسطینی ہلاک ہوگئے ہیں۔ اسرائیلی فوجی آپریشن میں کئی گرفتاریاں کی گئیں اور بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔












