تل ابیب :اسرائیلی وزیرِ دفاع یوآو گیلنٹ نے غزہ جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کے لیے اپنی حمایت کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے اسرائیل کو سکیورٹی کے دیگر چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک "تزویری موقع” ملے گا۔
انہوں نے کہا، "معاہدے کا حصول بھی ایک تزویری موقع ہے جو ہمیں سکیورٹی کی صورتِ حال کو تمام محاذوں پر تبدیل کرنے کا ایک بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔”
بین الاقوامی برادری پر زور دیتے ہوئے کہ وہ حماس پر معاہدہ طے کرنے کے لیے دباؤ برقرار رکھے، گیلنٹ نے کہا کہ وہ 31 مئی کو امریکی صدر جو بائیڈن کی پیش کردہ تین مراحل پر مشتمل جنگ بندی تجویز کے پہلے مرحلے کی مضبوطی سے حمایت کرتے ہیں اور انہیں امید ہے کہ اس کی بنیاد پر حتمی طور پر جنگ ختم ہو جائے گی۔
گیلنٹ نے پیر کو اپنے دفتر میں صحافیوں کو بتایا، "اسرائیل کو ایک ایسا معاہدہ طے کرنا چاہیے جو چھ ہفتوں کے لیے وقفہ کرے اور یرغمالیوں کو واپس لائے۔” ان کے تبصرے اشاعت کے لیے منگل کو جاری کیے گئے۔
گیلنٹ نے یہ بھی کہا کہ 11 ماہ سے زائد جنگ کے بعد حماس کی عسکری صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچا اور یہ کہ غزہ میں فوجی تشکیل کے طور پر مزید اس کا کوئی وجود باقی نہ تھا۔
انہوں نے کہا، "حماس اب مزید ایک فوجی تشکیل کے طور پر موجود نہیں ہے۔ حماس گوریلا جنگ میں مصروف ہے اور ہم بدستور اس کے دہشت گردوں سے لڑ رہے ہیں اور اس کی قیادت کا تعاقب کر رہے ہیں۔”
ان کے تبصرے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ، قطر اور مصر اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدہ طے کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ غزہ جنگ میں تقریباً 41,000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
وسیع پیمانے پر ہونے والی تباہی سے محصور علاقے میں ایک سنگین انسانی صورتِ حال پیدا ہوئی ہے جس کی نشاندہی 25 سالوں میں پولیو کے اولین کیس کی حالیہ تصدیق سے ہوتی ہے۔












