قاہرہ :حال ہی میں مصری براڈکاسٹر کی بیٹی مفیدہ شیحہ کی شادی کی تقریب میں ایک قدیم مسجد کے اندر جو کچھ ہوا اس نے تنازع پیدا کردیا۔ اب اسی طرح کا ایک اورو اقعہ سامنے آگیا۔ ایک قدیم مسجد سے منسلک مصر کے المنیل پیلس میوزیم نے اندر شادی کی تقریبات منعقد کرنے اور وصول کرنے کی تیاری کے بارے میں اشتہار سامنے آنے سے مصری شہریوں میں شدید غم و غصہ پیدا ہوگیا ہے۔سوشل میڈیا پر المنیل پیلس میوزیم کے صفحے پر ایک اشتہار کو دیکھ کر سوشل میڈیا صارفین نے حیرانی کا اظہار کیا۔ اس اشتہار میں کہا گیا کہ شادی کے لمحات کو ناقابل فراموش انداز میں منانے کے لیے اور ایک منفرد شاہی کردار کے ساتھ آثار قدیمہ کے مقام پر تقریب رکھی گئی ہے۔ المنیل میں میں پرنس محمد علی پیلس کی مسجد میں تقریب رکھی گئی ہے۔ پیج پر مسجد کے اندر منعقد ہونے والی شادی کی تقریب کی تیاریوں کی تصاویر بھی شائع کی گئیں۔اس اعلان نے بڑے پیمانے پر لوگوں میں غم و غصہ پیدا کردیا۔ قدیم مساجد کا ایک خاص کردار ہے اور مبصرین کے مطابق اس جگہ کے وقار اور تقدس کو پامال کرنے والی روایات سے انحراف کرنا کسی طرح درست نہیں ہے۔ ٹویٹ کرنے والوں نے تصدیق کی کہ قدیم مساجد کے اندر شادی کی تقریبات کا انعقاد وزارت نوادرات کے کنٹرول کی خلاف ورزی ہے۔متوازی طور پر اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے مصری تہذیب کے دفاع کی مہم کے سربراہ، ڈاکٹر عبدالرحیم ریحان نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ اسلامی نوادرات مقدس ہیں اور ان کی حفاظت کی جانی چاہیے۔












