ناظم بیگ
بلند شہر ؍سماج نیوز سروس:مسلم یو تھ کنونشن ،نیشنل سو شل آر گنائز یشن ،آل انڈیا ملی کونسل اور منصوری یو تھ فیڈریشن کے زیر اہتمام وقف ترمیمی بل کے تعلق سے بلند شہر میں ایک مشترکہ مشاورتی میٹنگ اور مذاکرے کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں ذمہ داران مدارس، علماء، ملی تنظیموں کے ذمہ داران اور مسلم دانشوروں نے شر کت کی۔ شرکاء نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے وقف ترمیمی بل کو مسترد کرنے کا مطا لبہ کیا ۔ میٹنگ کی صدارت مسلم یوتھ کنونشن کے صوبائی صدر حاجی نور محمد قریشی اور نظامت آل انڈیاملی کونسل اتر پردیش مغربی زون کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر ظہیر احمد خاںنے کی۔میٹنگ کا آغاز حافظ شکیل احمد کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔اس مو قع پر خطاب کر تے ہوئے حاجی نور محمد قریشی نے تفصیل سے وقف ترمیمی بل کے نکات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت جو ترمیمی بل لا رہی ہے وہ نہایت خطرناک ہے۔ حکومت کی نیت صاف نہیں ہے اس میں جو ترامیم کی گئی ہیں وہ شریعت سے متصادم ہیں اور وقف کی روح کے منافی ہیں ۔اس لیے ہم مسلمان اس کو کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کریں گے ۔اس موقع پر جامعہ فاروقیہ کے ناظم اعلی قاری محمد طلحہ قاسمی نے کہا کہ حکومت اس بل کے ذریعہ وقف املاک پر قبضہ کی راہ ہموار کرنا چاہتی ہے جس کی پرزور مخالفت کرنا چاہیے۔ این ایس او کے صدر چودھری خورشید عالم راہی نے کہا کہ بی جے پی حکومت یہ بل لا کر ملک میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا کرنا چاہتی ہے، یہ سیاہ قانون عزت نفس اور تحفظ اوقاف کا مسئلہ ہے ۔محمد نعیم منصوری نے کہا کہ امت مسلمہ کو اس نازک گھڑی میں سنجیدگی اور اتحاد کے ساتھ اس سیاہ قانون اور وقف ترمیمی بل 2024 کی مذمت کرنے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر مولانا عبدالرحمن صدر ملی کونسل بلند شہر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تحفظ اوقات وقف کی اہم ضرورت ہے ۔وقف امت مسلمہ کے لیے ایک عظیم سرمایہ ہے جو ہمیں اپنے آبا و اجداد سے وراثت میں ملا ہے ۔اس کی حفاظت شعائر اسلام میں سے ہے، کیونکہ اس وقف سے کثیر تعداد میں مساجد، مدارس، خانقاہیں اور قبرستان مربوط ہیں اور انہیں خطرہ لاحق ہے ۔حافظ شکیل احمد امام مسجد اہل حدیث نے کہا کہ اس بل کے ذریعے حکومت ہماری مساجد ،مدارس، قبرستان اور خانقاہوں پر قبضے کی بنیاد رکھ رہی ہے ۔اگر یہ بل پاس ہو گیا تو آنے والے وقت میں وقف کی تمام املاک مسلمانوں کے ہاتھ سے جاتی رہیں گی۔ قاری محمد افضل قاسمی نے کہا کہ وقت ترمیمی بل میں نہ صرف اس کا نام تبدیل کر کے اس کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے بلکہ اس میں وقف کے انتظام ،رجسٹریشن ،سروے ،ٹریبیونل کے اختیارات کو محدود کرنے اور کلکٹر کو دیے جانے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہوگا کہ ساری وقف املاک ضلع مجسٹریٹ کے کنٹرول میں چلی جائیں گی ۔مذکورہ مذاکرے اور میٹنگ میں اہم شرکا ء اور اظہار خیال کرنے والوں میں انجینئرحاجی لیاقت علی ،ارشاد احمد شرر ایڈوکیٹ ،میجر ڈاکٹر محمد فاضل ،قاضی عقیل احمد، حاجی جاوید غازی، ماسٹر الیاس خان، پرنسپل ایس ایم نواز موسی، قاری زبیر عالم قاسمی، قاری محمد ابراہیم، حا فظ نظام احمد ،شکیل احمد نیتاجی ، صہیب خان، ماسٹر افضال برنی، زبیر شاد ،ماسٹر عبدالعلی ،سردار انصاری،محمد شکیل ندوی اور جانشین الطاف کے نام قابل ذکر ہیں ۔میٹنگ میں وقف ترمیمی بل 2024 کے تعلق سے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ، جمعیت علماء ہند ،ملی کونسل اور جماعت اسلامی کے موقف اور تجاویز کی تائید اور حمایت کی گئی۔












