واشنگٹن (اے یوایس)مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی صدر جو بائیڈن کے نمائندے ایموس ہوکشٹائن نے اسرائیل کے پانچویں دورے میں تل ابیب حکومت کو لبنان کے ساتھ جنگ وسیع کرنے کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔امریکی نمائندے نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو پیر کے روز ملاقات میں لبنان کے خلاف وسیع تک جنگ چھیڑنے کے خطرے سے متعلق تنبیہ کی۔ یہ بات تین با خبر ذرائع نے بتائی۔امریکی نیوز ویب سائٹ axios کے مطابق ایموس ہوکشٹائن نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کو باور کرایا ہے کہ امریکا یہ نہیں سمجھتا کہ لبنان میں زیادہ وسیع لڑائی سے شمالی اسرائیل میں بے گھر اسرائیلیوں کی واپسی کا مقصد حاصل ہو سکے گا۔اسی طرح امریکی نمائندے نے تل ابیب کو آگاہ کیا کہ حزب اللہ کے ساتھ بھرپور جنگ کے نتیجے میں خطے میں زیادہ وسیع اور زیادہ طویل لڑائی چھڑ سکتی ہے۔ ہوکشٹائن نے زور دیا کہ ان کا ملک سفارتی حل کے موقف پر قائم ہے۔یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لبنانی سرحد پر اسرائیل کی جانب سے زمینی حملے کی تیاری کی باتیں ہو رہی ہیں۔اسی طرح یہ بازگشت بھی ہے کہ نیتن یاہو وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کو برطرف کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ایک امریکی ذمے دار کے مطابق اس وقت گیلنٹ جیسے تجربہ کار وزیر دفاع کو برطرف کرنا ”پاگل پن” ہو گا۔اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ حکومت نے غزہ کی جنگ کے اعلان کردہ مقاصد کا از سر نو تعین کیا ہے تا کہ شمالی اسرائیل کی آبادی کی واپسی کو ان میں شامل کیا جا سکے۔ دفتر کے مطابق سیکورٹی کابینہ نے گذشتہ رات اس فیصلے کی منظوری دے دی ہے۔ادھر اسرائیلی وزیر دفاع نے امریکی نمائندے سے ملاقات کے بعد کہا کہ ”حزب اللہ کی جانب سے خود کو حماس کے ساتھ وابستہ کرنے اور تنازع ختم کرنے سے انکار جاری رہنے سے کسی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات دھندلا رہے ہیں۔ لہذا شمالی اسرائیل کی آبادی کی واپسی یقینی بنانے کے لیے باقی رہ جانے والا واحد راستہ فوجی آپریشن ہو گا”۔












