بیروت (لبنان) (ہ س)۔ لبنان پیجر دھماکوں سے لرز اٹھا۔ منگل کو ہونے والے ان دھماکوں میں اب تک 11 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ فلسطین حامی جنگجو تنظیم حزب اللہ کے کارندوں کے ہزاروں پیجرز بیک وقت پھٹ گئے۔ نیویارک ٹائمز کی خبر کے مطابق لبنان کے وزیر صحت نے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ دھماکوں میں کم از کم 11 افراد ہلاک اور 2,700 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
حزب اللہ نے اسرائیل پرعائد کیا الزام
لبنانی اخبارایل اوریئنٹ ٹدے کے مطابق زیادہ تر پیجر دھماکے بیروت کے دحیہ، جنوبی لبنان کے طائر، نباتیہ اورمرجعون اور بیکا میں ہوئے۔ لبنان کے وزیر صحت کے مطابق 2,750 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے، جن میں سے 200 کی حالت تشویشناک ہے۔ زخمیوں میں حزب اللہ کے جنگجو اور ڈاکٹر شامل ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ یہ دھماکے دوپہر 3:45 بجے سے ایک گھنٹے تک مسلسل ہوتے رہے۔ لبنان کے وزیر صحت کے مطابق کچھ دھماکے زیادہ پرہجوم علاقوں جیسے سپر مارکیٹوں میں بھی ہوئے۔
ایرانی سفیر مجتبیٰ امانی بھی زخمی
ایران کی مہر خبررساں ایجنسی کے مطابق ، اس واقعے میں لبنان میں ایران کے سفیر مجتبیٰ امانی بھی زخمی ہوئے ہیں۔ حزب اللہ نے پیجر دھماکوں کے لئے اسرائیل کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ چند ماہ قبل ہی حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ نے اپنے جنگجووں سے اسمارٹ فون استعمال نہ کرنے کی اپیل کی تھی۔ نصر اللہ نے کہا تھا کہ اسرائیل کے پاس اسمارٹ فون کو ہیک کرنے یا اس سے معلومات نکالنے کی ٹیکنالوجی موجود ہے۔ سمجھا جاتا ہے کہ اسی وجہ سے حزب اللہ نے مواصلاتی ذرائع کو بہتر بنانے کے لیے اسمارٹ فون کے بجائے پیجر کا سہارا لیا۔ اور یہی پیجرز کئی معصوم جانوں کے دشمن بن گئے۔
تائیوان کے ہیں پیجر
دی نیویارک ٹائمز کے مطابق، امریکی اور دیگر حکام کے مطابق، حزب اللہ نے تائیوان کی ایک کمپنی سے پیجر اور بیپرس منگوائے تھے۔ ان میں بہت کم مقدار میں دھماکہ خیز مواد نصب کیا گیا تھا۔ ان عہدیداروں کے مطابق، اسرائیل نے لبنان میں درآمد کیے گئے تائیوان سے بنے پیجرز کی ایک نئی کھیپ کے اندر دھماکہ خیز مواد چھپا کر منگل کو حزب اللہ کے خلاف اپنی مہم چلائی۔
لبنان پہنچنے سے پہلے ان کے ساتھ کی گئی چھیڑ چھاڑ
کچھ حکام کے مطابق، حزب اللہ نے تائیوان میں گولڈ اپولو سے جن پیجرز کا آرڈر دیا تھا، لبنان پہنچنے سے پہلے ہی ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی۔ زیادہ تر پیجرز کمپنی کے اے پی 924 ماڈل کے تھے۔ اس شپمنٹ میں تین دیگر گولڈ اپولو ماڈل بھی شامل تھے۔ دو اہلکاروں کا دعویٰ ہے کہ ہر پیجر میں بیٹری کے بغل میں ایک سے دو اونس دھماکہ خیز مواد رکھا گیا تھا۔ ایک سوئچ بھی نصب کیا گیا تھا، جسے دور سے چالو کیا جا سکتا تھا تاکہ دھماکے کو متحرک کیا جا سکے۔ ایسی کارروائیوں میں مہارت رکھنے والے دو اہلکاروں نے بتایا کہ لبنان میں دوپہر 3:30 بجے پیجر میں ایک پیغام آیا۔ سمجھا گیا کہ یہ پیغام حزب اللہ کی قیادت کا ہے۔ لیکن اس پیغام نے دھماکہ خیز مواد کو متحرک کر دیا اور اس کے بعد ہونے والے دھماکوں سے دنیا دہل گئی ۔
حماس کی حمایت کر رہی ہے حزب اللہ
فی الحال اسرائیلی فوج نے اس پیش رفت پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ حماس نے گزشتہ سال اکتوبر میں اسرائیل پر حملہ کیا تھا۔ اس کے بعد غزہ میں جنگ شروع ہو گئی۔ اس جنگ میں حزب اللہ نے اپنے اتحادی حماس کی حمایت میں اسرائیل کے خلاف حملے کیے تھے۔












