ارنا کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دسویں ہنگامی اجلاس میں عالمی عدالت انصاف کی مشاورت کے نقطہ نگاہ سے سرزمین فلسطین پر غاصب صیہونی حکومت کے غاصبانہ قبضے کے قانونی نتائج پر مباحثے کے بعد اسرائیلی حکومت کے خلاف قرار داد پاس ہوگئی۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں قرارداد کے حق میں ایک سو چوبیس ممالک نے ووٹ دیا جبکہ بارہ ممالک نے اس کی مخالفت کی اور تینتالیس ممالک کے اراکین نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل ایک سال کے اندر غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے۔دوسری جانب اسلامی جمہوریہ ایران نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین سے قبضہ ختم کئے جانے کی قرار داد کی بھرپور حمایت اور غاصب صیہونی حکومت کی نسل پرستانہ پالیسیوں کی ٹھوس مذمت کی ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران نے جنرل اسمبلی کے اس ہنگامی اجلاس میں مظلوم فلسطینی عوام اوران کی امنگوں کی حمایت پر مبنی اپنا اٹل موقف بیان کیا اور غاصب صیہونی حکومت کی نسل پرستانہ پالیسیوں کی مذمت کرتے ہوئے سرزمین فلسطین سے قبضہ ختم کرانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اسلامی جہموریہ ایران نے قرار داد کے حق میں ووٹ دینے کے ساتھ ہی عالمی براداری سے مطالبہ کیا کہ صیہونی حکومت کو فلسطینیوں کی پوری سرزمین واپس کرنے اور فلسطینی عوام کو تاوان ادا کرنے پر مجبور کیا جائے۔
اسلامی جمہوریہ ایران نے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ایک بار پھر صیہونی حکومت کے جعلی اور غیر قانونی ہونے نیز اس کو کبھی بھی کسی بھی قیمت پر تسلیم نہ کرنے نیز مظلوم فلسطینی عوام کی بھرپور حمایت جاری رکھنے کے اپنے دیرینہ موقف کا اعلان کیا۔












