اسرائیل:اسرائیلی سیکیورٹی سروس نے ایک شہری کو نیتن یاہو کے قتل کی سازش میں ملوث ہونے کے شبہ میں حراست میں لے لیا ہے۔ اسرائیلی سیکیورٹی سروس کے مطابق یہ شہری ایران کی طرف سے نیتن یاہو کے قتل کے منصوبے سے متعلق تھا جو اسرائیلی وزیر اعظم اور دیگر اہم اسرائیلی شخصیات کو قتل کرنے کے مشن پر تھا۔اسرائیلی دعوے کے مطابق یہ شخص بنیادی طور پر ایک تاجر ہے۔ جس نے ایران میں کم از کم ایسے دو اجلاسوں میں شرکت کی ہے جو نیتن یاہو کے قتل کے بارے میں بحث مباحثے کے لیے تھے اور باقی اہم شخصیات کے قتل کے لیے راستے تلاش کرنے کے لیےبلائے گئے تھے۔
بتایا گیا ہے کہ وزیر اعظم کے علاوہ اس مبینہ ایرانی منصوبے میں وزیر دفاع یوو گیلنٹ اور اسرائیلی حساس ادارے شین بیت کے سربراہ کا قتل بھی شامل تھا ، خیال رہے شین بیت اسرائیل کی اندرونی سلامتی سے متعلق ایجنسی ہے۔اس مشتبہ شخص کے بارے میں شین بیت اور اسرائیلی پولیس کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسے حراست میں پچھلے ماہ لیا گیا تھا۔ یہ گرفتاری اسرائیل کی لبنانی سرحد پر جاری لڑائی کے سلسلے میں جاری انٹیلی جنس سرگرمیوں کے درمیان ہوئی ہے۔تاہم پچھلے ہفتے شین بیت نے اس سارے قتل منصوبے کو بے نقاب کر دیا ۔ اس منصوبے سے معلوم ہوا ہے کہ اس میں لبنانی حزب اللہ بھی شریک تھی تاکہ اسرائیل کے سابق دفاعی حکام کو قتل کیا جاسکے ، جن میں سابق آرمی چیف آف سٹاف اور سابق وزیر دفاع موشے یعلون بھی شامل ہیں۔












