لبنان:اسرائیلی فضائیہ کے طیاروں نے آج جمعے کو علی الصبح لبنان میں "المصنع” سرحدی گزر گاہ کے اطراف بم باری کی۔ اس کے نتیجے میں لبنان اور شام کے درمیان بین الاقوامی ہائی وے بند ہو گئی۔
البقاع کے علاقے میں واقع یہ گزر گاہ لبنان اور شام کے درمیان راستہ عبور کرنے کی اہم ترین راہ داری شمار ہوتی ہے۔ اسرائیل نے شام اور لبنان کے بیچ شہری گزر گاہوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے کہ یہ "حزب اللہ” کی جانب سے استعمال کی جا رہی ہیں۔ اسی طرح اسرائیلی فوج نے جمعرات کے روز مطالبہ کیا تھا کہ ان گزر گاہوں پر ٹرکوں کی سخت جانچ پڑتال کی جائے۔
معلومات کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے مذکورہ بین الاقوامی ہائی وے کو تین میزائلوں سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں اس کے کچھ حصے تباہ ہو گئے۔ علاقے میں موجود شامی اور لبنانی تارکین وطن میں کسی کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔
لبنان کے وزیر ٹرانسپورٹ علی حمیہ نے بتایا کہ آج صبح اسرائیل نے جس راستے کو حملے کا نشانہ بنایا اسے لاکھوں افراد گذشتہ دنوں میں اسرائیلی بم باری سے بچ کر راہ فرار اختیار کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ لبنانی وزیر کے مطابق حملے کے سبب ہائی وے پر چار میٹر چوڑا گڑھا پڑ گیا۔ اس طرح انسانی ضروریات اور شام جانے والے لاکھوں لبنانیوں کے لیے مرکزی گزر گاہ کی حیثیت رکھنے والا راستہ بند ہو چکا ہے۔
اس سے قبل لبنانی وزیر نے جمعرات کے روز بتایا تھا کہ تمام سرحدی گزر گاہیں حکومت کے زیر کنٹرول ہیں۔ یہ موقف اسرائیل کی جانب سے ان الزامات کے بعد سامنے آیا جن میں کہا گیا کہ حزب اللہ المصنع کی سرحدی گزر گاہ کے راستے شام سے اسلحہ اسمگل کر رہی ہے۔
لبنانی حکومت کے مطابق گذشتہ دس روز کے دوران میں 3 لاکھ سے زیادہ افراد لبنان سے سرحد پار کر کے شام گئے۔ لبنان پر اسرائیل کی بڑھتی ہوئی بم باری سے بچ کر فرار ہونے والے ان افراد میں بڑی تعداد شامیوں کی ہے۔
اسرائیل نے شام اور لبنان کو جوڑنے والی سرحدی گزر گاہوں کے نزدیک چیک پوائنٹوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
اسرائیل ان حملوں کی تصدیق کبھی کبھار ہی کرتا ہے تاہم وہ اس بات کو بار بار دہراتا ہے کہ ایران کی جانب سے شام میں اپنے عسکری وجود کو مضبوط بنانے کی کوششوں کو ہر قیمت پر روکا جائے گا۔












