بیروت(ہ س)۔لبنان کے جنوبی حصے میں اسرائیلی فوج اور حزب اللہ تنظیم کے درمیان لڑائی جاری ہے۔ اس دوران لبنان کے مختلف علاقوں بالخصوص البقاع (مشرقی میں) پر اسرائیلی فضائی حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔اسرائیلی فوج نے آج منگل کے روز جاری بیان میں بتایا ہے کہ اس کے فوجیوں کی حزب اللہ کے جنگجوؤں کے ساتھ دوبدو جھڑپ ہوئی۔ اس دوران میں درجنوں جنگجوؤں کو ختم کر دیا گیا۔ مزید یہ کہ اسرائیلی فضائیہ نے لبنان کے جنوب میں حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا ہے اور اسرائیلی فوج کو تنظیم کا بہت سا اسلحہ بھی ملا ہے۔اسرائیلی فوج کے بیان کے مطابق پیر کو لبنان میں تقریبا 200 اہداف پر حملے کیے گئے۔ ان اہداف میں ٹینک شکن راکٹوں اور زمین سے زمین تک مار کرنے والے راکٹوں کے ٹھکانے شامل ہیں۔دوسری جانب حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے آج صبح اسرائیل میں کریات شمونہ بستی پر راکٹوں کی کھیپ برسائی۔ ایک دوسرے بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی میرینز کے ساتھ جھڑپ بھی ہوئی جنھوں نے مشرقی سمت سے رب ثلاثین قصبے کے اطراف در اندازی کی کوشش کی تھی۔ جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے جن میں خود کار ہتھیاروں اور راکٹوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔لبنان کے جنوبی علاقوں کے علاوہ البقاع اور شمالی حصے پر بھی اسرائیلی فضائی حملے جاری ہیں۔ گذشتہ روز شمالی لبنان کے قصبے ایطو کو پہلی مرتبہ بم باری کا نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں 21 افراد ہلاک ہو گئے۔ جواب میں حزب اللہ کے راکٹوں نے اسرائیل میں کرمئیل اور راموت نفتالی کی بستیوں کو نشانہ بنایا۔جنوبی لبنان میں پیر اور منگل کی درمیانی شب القصیبہ اور عدشیت کے قصبوں کے علاوہ النبطیہ کے علاقے میں بم باری کی گئی۔ادھر مشرق میں البقاع میں اسرائیلی فضائیہ نے گذشتہ روز کی صبح سے لے کر پیر اور منگل کی پوری درمیانی شب آگ برسانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس دوران بعلبک کے داخلی راستے پر شدید بم باری کی گئی جس کے نتیجے میں عمارتوں، دکانوں اور دیگر اداروں کو بھاری نقصان پہنچا۔ ان میں المرتضی ہسپتال بھی شامل ہے جو خدمت فراہم کرنے سے قاصر ہو گیا ہے۔بعلبک میں ایک پریشان کرنے والی بو پھیل گئی ہے جس کی شکایت شہر کے مکینوں کی جانب سے کی جا رہی ہے۔ یہ بو اس زہریلے مواد کی ہو سکتی ہے جو بم باری کے دوران برسایا گیا۔یاد رہے کہ 23 ستمبر سے اسرائیل نے لبنان کے مختلف علاقوں بالخصوص جنوبی حصے اور بیروت کے جنوبی مضافات میں الضاحیہ پر اپنے فضائی حملوں کو شدید کر دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں اب تک 1200 سے زیادہ شہری ہلاک اور تقریبا 10 ہزار زخمی ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ آٹھ اکتوبر 2023 سے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپیں شروع ہونے کے بعد سے اب تک 12 لاکھ کے قریب لبنانی نقل مکانی کر چکے ہیں۔












