علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ انگریزی کی سینئر استاد پروفیسر سمیع رفیق کی انگریزی نظموں کے مجموعے ”سونگس آف علی گڑھ“ کا اجراء یونیورسٹی کی سرسید اکیڈمی میں منعقدہ ایک تقریب میں ممتاز شاعرہ، مصنفہ اور ایڈیٹر پروفیسر سکریتا پال کمار اور اے ایم یو وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر فرحت حسن، ایوارڈ یافتہ ذولسانی مصنف پروفیسر شافع قدوائی، ڈائریکٹر، سر سید اکیڈمی، اور پروفیسر عائشہ منیرہ کے ہمراہ کیا۔ اس مجموعہ میں فطرت اور ثقافت پر نظمیں شامل ہیں۔ اس موقع پر انسانی زندگی اور ماحولیات پر جدید ترقی کے اثرات، قدرتی ماحول کی بربادی، شناخت کے مسائل، مکانات، درخت، دریا اور تالاب کے ساتھ انسان کے تعلق اور روزمرہ کی زندگی کی مشکلات کی اشعار میں تصویر کشی پر دلچسپ معلوماتی گفتگو ہوئی۔پروفیسر سکریتا پال کمار نے کہاکہ نظموں کے اس مجموعے میں علی گڑھ کو ایک استعارے کے طور پر استعمال کیا گیا۔ سمیع رفیق کی نظمیں نہ صرف ماضی کو یاد کرتے ہوئے قدرتی مظاہر کی تباہی پر ماتم کرتی ہیں بلکہ ایک بہتر مستقبل کی امید بھی جگاتی ہیں۔پروفیسر کمار نے جانوروں، پرندوں اور درختوں کے ارد گرد کتاب کی منصوبہ بندی اور اس کی ترتیب کو سراہتے ہوئے ایک نظم کا بطور خاص ذکر کیا جس میں شاعرہ ایک درخت سے خود کو جوڑتے ہوئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی ماحولیاتی تاریخ کو بیان کرتی ہے، جس کا آغاز سرسید سے ہوتا ہے۔اے ایم یو کی وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون جو کچھ تاخیر سے پروگرام میں شامل ہوئیں، انھوں نے پروفیسر سمیع رفیق کو علی گڑھ پرمبنی فطرت کی نظموں کا مجموعہ شائع کرنے پر مبارکباد پیش کی، جو غالباً انگریزی میں اس طرح کا پہلا مجموعہ ہے۔ انہوں نے اے ایم یو کیمپس کی علمی زندگی کو تقویت بخشنے کے لیے وقفے وقفے سے ادبی مباحثوں کے انعقاد کے لیے سرسید اکیڈمی اور اس کے ڈائریکٹر کی بھی ستائش کی۔پروفیسر فرحت حسن نے ماحولیاتی انحطاط کے بارے میں گہری تشویش کا اظہار کرنے پر نظموں کے مجموعے کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ نظمیں نہ صرف درد اور کرب کا اظہار کرتی ہیں بلکہ جدید ترقی کی طاقتوں کے ہاتھوں فطرت کے ساتھ نامیاتی تعلق کے ٹوٹنے پر بھی افسوس کا اظہار کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان نظموں نے اپنے شہر علی گڑھ کے ساتھ ان کے ٹوٹے ہوئے رشتوں اور اقدار کو بحال کیا ہے۔پروفیسر حسن نے کتاب میں گھر، درختوں اور تالابوں جیسی اشیاء کے ساتھ شاعر کے رشتوں کے مضبوط احساس کا ذکر کیا۔ انھوں نے روزمرہ کی زندگی کو لکھنے والے مؤرخین اور شاعروں کے درمیان فرق کو واضح کرتے ہوئے کہاکہ شاعر روزمرہ کی زندگی کے مسائل و مصائب کو اپنے جذبات و احساسات کی روشنی میں بیان کرتا ہے اور اس اعتبار سے سونگس آف علی گڑھ ایک کامیاب کوشش ہے۔گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے پروفیسر شافع قدوائی نے اردو کے مشہور شاعر مجاز کی نظم رات اور ریل اور سمیع رفیق کی ’علی گڑھ جنکشن‘ کے درمیان مماثلت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ رومانوی شاعر ہمیشہ فطرت کی بات کرتے ہیں، لیکن رفیق کی نظمیں رومانیت سے بالاتر ہیں، کیونکہ وہ روزمرہ کی شہری زندگی، ماحولیات کے انحطاط، نباتاتی اور حیواناتی زندگی کو ہونے والے نقصانات اور مقامات اور قدرتی رہائش گاہوں کی تباہی پر ماتم و افسوس کرتی ہیں۔پروفیسر عائشہ منیرہ رشید نے اظہار خیال کر تے ہوئے کہا کہ سمیع رفیق کی نظمیں شمالی ہندوستان کے ایک چھوٹے شہر کی منظرکشی کرتی ہیں جو اسمارٹ سٹی ہے لیکن یہاں وسیع پیمانے پر قدرتی مظاہر کی تباہی بھی دکھائی دیتی ہے۔انھوں نے ایک نظم ”اِن ڈِگی لیک‘ پر گفتگو کی جو دوسری نظموں کی طرح قدرتی مظاہر کو ترقی کے نام پر تباہ کرنے کا اشاریہ ہے۔ انھوں نے کہاکہ یہ نظم 1964 کے امریکی لوک نغمے ”دی ساؤنڈ آف سائیلینس‘ از سائمن اینڈ گارفنکل کی یاد دلاتی ہے۔پروفیسر منیرہ رشید نے کہا کہ علی گڑھ شہر ترقی کے نئے دیوتاؤں اسمارٹ سٹی کے نیون لائٹس میں گم ہورہا ہے۔ ’سونگس آف علی گڑھ‘ انسانوں اور فطرت کے مظاہر کے درمیان مثبت تعلق ٹوٹنے پر روشنی ڈالتی ہے اور علی گڑھ کی آب و ہوا اور نباتات و حیوانات کی تباہی پر افسوس کا اظہار کرتی ہے۔فطرت اور جانوروں سے اپنی محبت اور علی گڑھ اور اے ایم یو کے ساتھ اپنے تعلق کو بیان کرتے ہوئے پروفیسر سمیع رفیق، جو آب و ہوا کی تبدیلی اور ادب پر ایک پیپر بھی پڑھاتی ہیں، کہاکہ جگہیں اور مقامات شناخت کا ایک اہم استعارہ ہیں۔ فطرت اور انسانوں کے درمیان تعلقات کے ٹوٹنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ڈیپ ایکولوجی تحریک کے بانی، ناروے کے فلسفی آرنے نیس نے مقامات اور جگہوں کی اہمیت کے بارے میں بات کی ہے جو انسانوں کو شناخت عطا کرتی ہیں۔
ناروے کے فلسفی نے ایک دریا کے بارے میں بات کی جس پر ایک ڈیم تعمیر کیا جا رہا تھا اور مقامی لوگ اس کے خلاف احتجاج کر رہے تھے کیوں کہ اس سے ان کی روزی روٹی متاثر ہو گی اور اسے کھونے کا مطلب اپنی شناخت کھو دینا ہے۔ مظاہرین میں سے ایک شخص نے کہا تھا کہ دریا میں ہی ہوں، وہ میری شناخت ہے۔پروفیسر رفیق نے اپنی کتاب سے ایک نظم ”ونس مائی گارڈین“ بھی سنائی جس میں وہ کہتی ہیں کہ ’ترقی کے شیطان کنکریٹ اور سیمنٹ کے ساتھ آکر باغ کو تباہ کرتے ہیں‘۔پروگرام کا اختتام سرسید اکیڈمی کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد شاہد کے شکریہ کے کلمات کے ساتھ ہوا۔ نظامت ڈاکٹر حسین حیدر نے کی۔












