کینیڈا:کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کینیڈا کو 51 ویں امریکی ریاست بنانے کی بات "حقیقی” ہے اور یہ ملک کے امیر قدرتی وسائل سے منسلک ہے۔ کینیڈین براڈکاسٹنگ کارپوریشن ’سی بی سی‘ نے اطلاع دی ہے کہ ٹروڈو کے ایک بند کمرہ اجلاس میں کاروباری اور مزدور رہنماؤں کے لیے ریمارکس کے دوران غلطی سے لاؤڈ اسپیکر پر منتقل ہوگئے تھے۔
براڈکاسٹر کے مطابق کہ ٹروڈو نے کہا کہ "مسٹر ٹرمپ کے ذہن میں ہے کہ ایسا کرنے کا سب سے آسان طریقہ ہمارے ملک پر قبضہ کرنا ہے، جو کہ سچ ہے۔ ٹروڈو نے آڈیو بند ہونے سے پہلے کینیڈا کے امریکی ریاست بننے کے بارے میں بات کی تو وہ لاؤڈ اسپیکر پر چلی گئی۔ٹروڈو نے مبینہ طور پر کہا کہ "وہ ہمارے وسائل، ہمارے پاس جو کچھ ہے، اس سے بہت آگاہ ہیں۔وہ ان سے فائدہ اٹھانے کے قابل ہونے کے بہت خواہش مند ہیں”۔
ٹروڈو کے دفتر نے فوری طور پر رد عمل کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں البرٹا فیڈریشن آف لیبر کے صدر گیل میک گوون نے ٹروڈو کے بیان کی تصدیق کی۔انہوں نے کہا کہ”ہاں میں اس بات کی تصدیق کر سکتا ہوں کہ ٹروڈو نے کہا کہ ان کا اندازہ یہ ہے کہ ٹرمپ واقعی فینٹینیل، امیگریشن یا تجارتی خسارے پر کارروائی نہیں کرنا چاہتے ہیں۔” میک گوون نے لکھاکہ "وہ واقعی کینیڈا کا تسلط یا مکمل کنٹرول چاہتے ہیں”۔
جمعہ کو ریمارکس میں ٹروڈو نے کہا کہ کینیڈا کو حکمت عملی سے سوچنا چاہیے کہ کینیڈا کی تمام درآمدات پر بڑے ٹیرف لگانے کے ٹرمپ کی دھمکیوں سے کیسے نمٹا جائے؟












