سعودی عرب:سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کابینہ کے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں موجودہ علاقائی اور بین الاقوامی صورت حال پر بات چیت کی گئی۔ اس کے علاوہ برادر فلسطینی عوام کی جبری ہجرت کے حوالے سے اسرائیل کے انتہا پسندانہ بیان کو یکسر مسترد کر دیا گیا۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق کابینہ نے سعودی عرب کے نزدیک مسئلہ فلسطین کی مرکزیت کو باور کرایا اور زور دیا کہ مستقل امن صرف دو ریاستی حل کے ذریعے پر امن باہمی بقاء سے ہی ممکن ہو گا۔اس دوران میں سعودی ولی عہد نے کابینہ کو اردن کے فرماں روا شاہ عبداللہ اور امارات کے صدر شیخ محمد بن زائد آل نہیان سے اپنے دو ٹیلیفون رابطوں کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔
کابینہ نے سیفٹی انڈیکس میں سعودی عرب کے جی ٹوئنٹی ممالک میں سر فہرست آنے کو سیکورٹی اور استحکام کے میدان میں مملکت کے قائدانہ مقام کا عکاس شمار کیا۔
کابینہ کے اجلاس میں سعودی عرب اور اردن کے درمیان منشیات اور کیمیائی مواد کی شکل میں غیر قانونی تجارت کے انسداد کے شعبے میں تعاون کے سمجھوتے کی بھی منظوری دی گئی۔
سعودی کابینہ نے سعودی ویژن 2030 پروگرام سے مربوط اقتصادی اصلاحات کے لیے مالی استحکام سے متعلق ایگزیکٹو پلان کو سراہا۔ یہ اقدامات سعودی عرب کی معیشت کو مضبوط بنائے گی۔
مصری وزارت خارجہ نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ عرب لیگ کے وزرائے خارجہ اجلاس کے بعد غزہ سے فلسطینیوں کی نقل مکانی کے معاملے پر اسلامی تعاون تنظیم ’او آئی سی‘ کا ہنگامی بھی طلب کیا گیا ہے۔
مصری وزارت خارجہ نے کہا کہ گذشتہ چند دنوں میں مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی اور اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک بشمول سعودی عرب، پاکستان، ایران اور اردن کے متعدد وزرائے خارجہ کے درمیان رابطے ہوئے ہیں جن میں مسئلہ فلسطین کے حوالے سے پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ رابطوں میں 27 فروری کو قاہرہ میں ہونے والے ہنگامی عرب سربراہی اجلاس کے بعد اسلامی تعاون تنظیم کا ہنگامی وزارتی اجلاس منعقد کرنے پر اصولی طور پر اتفاق کیا گیا ہے، تاکہ فلسطین کے مسئلے پر فلسطینی، عرب اور مسلمان ممالک کے موقف کا اظہارکیا جا سکے اور فلسطینیوں کے ان کے حق خود ارادیت اور ان کی سرزمین میں رہنے کے ناقابل تنسیخ حقوق کی پاسداری کی جائے۔ چند روز قبل مصری وزارت خارجہ نے اعلان کیا تھا کہ قاہرہ 27 فروری کو مسئلہ فلسطین کی پیش رفت پر ہنگامی عرب سربراہی اجلاس کی میزبانی کرے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ سربراہی اجلاس میں مسئلہ فلسطین کی تازہ ترین اور خطرناک پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔باخبر ذرائع نے اس سے قبل العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا تھا کہ سربراہی اجلاس میں ایک متفقہ عرب فیصلے اور موقف تک پہنچنے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا ۔ ذرائع نے کہا کہ وہ نقل مکانی کے خلاف اور فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کی کوششوں کو روکنے کے لیے ضروری قانونی اور بین الاقوامی اقدامات کرنے کے لیے عرب ممالک میں اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔












