شاملی، سماج نیوز سروس: کاندھلہ کے معروف دینی ادارہ جامعہ عربیہ قاسم العلوم و جامعہ عائشہ للبنات میں سالانہ اجلاس عام انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد ہوا۔ اس روحانی و تعلیمی اجلاس میں علمائے کرام، دینی اساتذہ اور طلبہ اور کثیر تعداد میں عوام نے شرکت کی۔ اجلاس کا آغاز سید سعد ہاشمی کی تلاوتِ قرآن سے ہوا، جس کی پرسوز تلاوت نے محفل کو روحانی نور سے منور کر دیا۔ اس کے بعد قاری محمد نعیم نے نعتِ پاک پیش کی، جس نے سامعین کے دلوں میں عشقِ رسول ﷺ کو مزید بڑھا دیااجلاس کی نظامت نہایت عمدہ انداز میں مولانا سہیل اختر قاسمی نے انجام دی، جنہوں نے تمام مقررین کو خوبصورت انداز میں مدعو کیا اور سامعین کی توجہ کو اجلاس کے نکات کی جانب مرکوز رکھا۔مولانا سید حسن مدنی نے کہا کہ "قرآن کو مضبوطی سے تھامنا ہمارے ایمان کی سب سے بڑی نشانی ہے۔ اسلام کی حفاظت اور اس کی ترقی میں مدارس دینیہ کا بنیادی کردار ہے اور ان کا تحفظ پوری امتِ مسلمہ کی اولین ذمہ داری ہے۔”انہوں نے اسلامی تعلیم کی اہمیت اور اس کے فروغ میں مدارس کی خدمات پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور مسلمانوں کو دین سے جڑے رہنے کی تلقین کی۔مفتی محمد راغب نے عظمتِ ایمان پر تفصیلی گفتگو کی اور مضبوط ایمان کی ضرورت پر زور دیا۔قاری عبید الرحمٰن نے اسلام کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دنیا اور آخرت کی کامیابی اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے میں ہے۔مولانا مرسلین قاسمی نے تاریخِ قرآن پر جامع بیان دیا، جس میں انہوں نے قرآن کے نزول، اس کی حفاظت، اس کی خصوصیات اور امتِ مسلمہ پر اس کے احسانات کا ذکر کیا۔جامعہ کے مہتمم مولانا سید بدر الہدیٰ قاسمی اور نائب مہتمم مولانا سید مظہر الہدیٰ قاسمی نے اجلاس میں شریک تمام معزز مہمانوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے فرمایا:”یہ دینی ادارے ملتِ اسلامیہ کے قلعے ہیں، جن کی مضبوطی پوری امت کی ترقی اور کامیابی کی ضمانت ہے۔”انہوں نے اجلاس کے کامیاب انعقاد پر تمام علمائے کرام، قراء حضرات اور معزز مہمانوں کی شرکت کو سراہا اور منتظمین کو ان کی محنت پر مبارکباد دیاس عظیم الشان اجلاس میں سید مظہر الہدیٰ قاسمی، قاری امید الرحمٰن، قاری محمد منور، مولانا عابد، مولانا اورنگزیب، قاری شعیب، قاری راشد، سید معاذ ہاشمی، ماسٹر رضوان، سید سعد ہاشمی، طوبیٰ فلک ہاشمی، دانیا فلک ہاشمی، مومنہ، محسنہ، باغ جہاں سمیت دیگر ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔ تمام شرکاء نے اجلاس کو ایک مفید اور علمی و روحانی لحاظ سے بھرپور موقع قرار دیا۔اجلاس میں وہ بچے اور بچیاں جنہوں نے بہترین پروگرام پیش کیے، انہیں خصوصی انعامات سے نوازا گیا۔ اس موقع پر تمام شرکاء نے اجلاس کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا۔اجلاس کے دوران مختلف موضوعات پر تفصیلی گفتگو ہوئی، جن میں مدارسِ دینیہ کی موجودہ صورتحال، جدید تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم کا امتزاج، مسلم معاشرے کے اخلاقی و دینی زوال اور اس کے حل میں مدارس کے کردار جیسے نکات شامل تھے۔ مقررین نے نوجوان نسل کو دینی تعلیم سے جوڑنے، اسلامی ثقافت کی حفاظت اور مدارس کی ترقی کے لیے دینی و دنیاوی تعلیم پر زور دیا۔اجلاس کا اختتام مولانا مدنی کی دعا پر ہوا آخر میں مولانا سید حسن مدنی نے پوری دنیا میں امن، بھائی چارے اور ملک کی ترقی کے لیے دعا کرائی۔ اجلاس میں شریک تمام افراد نے اللہ تعالیٰ کے حضور ملتِ اسلامیہ کی فلاح و بہبود کے لیے ہاتھ اٹھائے اور دعا میں شرکت کی۔












